مذہب اور مشرقی روایات میں والدین کا احترام اور ان کی خدمت کو لازمی قرار دیا گیا ہے، لیکن بعض اوقات معاشرتی اقدار کی دھجیاں بکھرتے ہوئے دلخراش مناظر بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔ ایسا ہی ایک دردناک واقعہ پاکستان میں سامنے آیا ہے جہاں ایک بزرگ شہری طویل عرصے تک بیرون ملک محنت مزدوری کرنے کے بعد جب واپس اپنے وطن پہنچا تو اسے اپنوں ہی کی طرف سے شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
ستر سالہ محمد نواز نامی شہری نے اپنی زندگی کے قیمتی سینتیس سال ملک سے باہر گزارے تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کو ایک بہتر مستقبل اور مالی استحکام فراہم کر سکے۔ اس نے اپنی جوانی اور صحت کی تمام تر توانائیاں ایک غیر ملکی کمپنی میں صرف کیں تاکہ وہ اپنے بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی بہترین ضروریات پوری کر سکے۔
جب محمد نواز اپنی ملازمت کی مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہو کر اپنے وطن واپس لوٹا تو اس کے دل میں یہ امید تھی کہ اب وہ اپنی باقی ماندہ زندگی اپنے پیاروں کے ساتھ پرسکون ماحول میں گزارے گا۔ اسے توقع تھی کہ اس کی ساری زندگی کی قربانیوں کا صلہ اسے محبت اور اپنائیت کی صورت میں ملے گا، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔
وطن پہنچنے پر جب وہ اپنے گھر کی دہلیز پر پہنچا تو اس کی اہلیہ اور سگی اولاد نے اسے گھر کے اندر داخل ہونے سے صاف انکار کر دیا۔ اپنوں کے اس رویے نے بزرگ شہری کو ذہنی طور پر توڑ کر رکھ دیا اور وہ بے بسی کی تصویر بن کر رہ گیا۔
متاثرہ شہری محمد نواز نے اس حوالے سے میڈیا کے نمائندے مناظر علی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی رودادِ غم بیان کی اور آنکھوں میں آنسو لیے اپنی زندگی کے اس تاریک ترین موڑ کا ذکر کیا۔ اس نے بتایا کہ اس نے اپنی جوانی کا ہر لمحہ صرف اور صرف اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے وقف کر دیا تھا۔
محمد نواز کا کہنا تھا کہ اس نے دن رات محنت کر کے اتنی کمائی کی کہ اس کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں اور معاشرے میں باعزت روزگار کے قابل ہو سکیں۔ اس نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ جس اولاد کو اس نے اپنے ہاتھوں سے پالا پوسا اور جوانی کی تمام توانائیاں نچھاور کیں، وہی اولاد بڑھاپے میں اسے بے سہارا چھوڑ دے گی۔
ستر سال کی عمر میں جب انسان کو سب سے زیادہ جذباتی سہارے اور طبی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، اس موڑ پر گھر کے دروازے بند ہو جانا کسی بڑے صدمے سے کم نہیں ہے۔ محمد نواز کو نہ صرف گھر سے نکالا گیا بلکہ اس کے اپنے عزیزوں نے اس کے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی یا انسانیت کا مظاہرہ بھی نہیں کیا۔
گھر میں داخلے پر پابندی اور اپنوں کی بے رخی کے بعد اس بے سہارا بزرگ کے پاس کوئی اور چارہ کار نہیں بچا تھا، چنانچہ وہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گیا۔ حالات کے اس کٹھن دور میں اسے اولڈ ایج ہوم کا رخ کرنا پڑا۔
محمد نواز اب خورشید اولڈ ایج ہوم میں مقیم ہیں جہاں وہ اپنی زندگی کے باقی دن انتہائی کسمپرسی اور صدمے کی حالت میں گزار رہے ہیں۔ اولڈ ایج ہوم میں موجود دیگر افراد اور منتظمین ہی اب اس کا واحد سہارا ہیں، جو اس کے دکھ درد کو بانٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے ان تلخ حقائق کو بھی بے نقاب کرتا ہے جہاں مادی دوڑ میں اخلاقی اقدار اور خاندانی رشتوں کا تقدس پامال ہوتا جا رہا ہے۔ اولڈ ایج ہومز کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ بزرگ شہریوں کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے مزید سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
ماہرینِ معاشیات اور سماجی شخصیات کا کہنا ہے کہ اولاد کی جانب سے والدین کے ساتھ ایسا غیر انسانی سلوک نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہے بلکہ یہ ہماری تہذیبی روایات پر بھی ایک بدنما داغ ہے۔ بزرگوں کی خدمت ہی دراصل دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔
اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے محمد نواز کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ بزرگوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
حکومت اور متعلقہ فلاحی اداروں کو بھی اس نوعیت کے معاملات کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ بزرگ شہریوں کو اولڈ ایج ہومز کا رخ نہ کرنا پڑے اور وہ اپنی فیملی کے ساتھ باعزت زندگی گزار سکیں۔ معاشرے کے ہر فرد کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ آئندہ اس قسم کے المناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے.





اپنی رائے دیں