لاہور میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی فضائی آلودگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث شہر کی فضا انتہائی مضرِ صحت ہو چکی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 300 کی خطرناک سطح کو عبور کر گیا ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں فضائی آلودگی کی اوسط شرح 330 ریکارڈ کی گئی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی سطح میں فرق پایا گیا ہے، تاہم بعض مقامات پر صورتحال انتہائی تشویشناک حد تک خراب ہو چکی ہے۔
ملتان روڈ پر فضائی آلودگی کی شرح سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جی ٹی روڈ اور شاہدرہ کے علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس 500 تک پہنچ چکا ہے، جسے طبی ماہرین انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیتے ہیں۔
دیگر علاقوں کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو ڈی ایچ اے فیز 6 میں اے کیو آئی 357، کاہنہ نو میں 342 اور پنجاب یونیورسٹی کے اطراف میں 335 ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار شہر میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
شہر کے مضافاتی اور دیگر مقامات پر بھی فضا کا معیار متاثر ہوا ہے۔ برکی روڈ پر اے کیو آئی 247، سفاری پارک میں 246، ایجرٹن روڈ پر 241 جبکہ واہگہ بارڈر کے قریب یہ شرح 199 ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرینِ ماحولیات نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ فضائی آلودگی کی یہ بلند سطح سانس اور پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے شدید خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔ آلودہ فضا آنکھوں اور گلے کی جلن کا سبب بھی بن رہی ہے۔
طبی ماہرین نے خصوصاً بچوں، بزرگوں اور دمے کے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ غیر ضروری طور پر کھلی فضا میں نکلنے سے گریز کیا جائے اور گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک کا استعمال یقینی بنایا جائے۔
موسم کی تبدیلی اور ہوا میں نمی کے تناسب میں کمی کے باعث سموگ کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ فضائی آلودگی میں اضافے کی بڑی وجوہات میں گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج اور تعمیراتی سرگرمیاں شامل ہیں جو شہر کی فضا کو مسلسل بوجھل کر رہی ہیں۔
انتظامیہ کی جانب سے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک آلودگی کے ذرائع پر مکمل کنٹرول نہیں پایا جاتا، صورتحال میں بہتری لانا ایک بڑا چیلنج رہے گا۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی فٹنس کو یقینی بنائیں اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو سڑکوں پر نہ لائیں۔ اس کے علاوہ کوڑا کرکٹ جلانے سے گریز کرنے کی بھی سختی سے تلقین کی گئی ہے تاکہ فضا کو مزید آلودہ ہونے سے بچایا جا سکے۔
محکمہ ماحولیات کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق، فضائی آلودگی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر تعلیمی اداروں اور دفاتر میں بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ کھلی جگہوں پر ورزش کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔
آئندہ چند روز کے دوران موسم کی صورتحال اور ہوا کے رخ میں تبدیلی کے ساتھ ہی فضائی معیار میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم، تب تک شہریوں کو اپنی صحت کے تحفظ کے لیے انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے فضائی آلودگی کی نگرانی کے لیے جدید آلات کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ بروقت اعداد و شمار حاصل کر کے شہریوں کو آگاہی فراہم کی جا سکے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔





اپنی رائے دیں