خیبر پختونخوا میں معدنیات کے شعبے اور مائننگ لائسنسوں کے اجرا کے حوالے سے اہم ترین حقائق اور اعداد و شمار سامنے آ گئے ہیں جن سے متعدد امور پر روشنی پڑتی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق صوبے میں معدنی وسائل کے انتظام اور لائسنسوں کی تقسیم کے معاملے پر مختلف نوعیت کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
تاریخی اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کی آزادی سے لے کر سال دو ہزار دس تک پورے خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر صرف چار سو بیاسی مائننگ لائسنس جاری کیے گئے تھے۔
اس کے بعد کے برسوں میں لائسنسوں کے اجرا میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور پی ٹی آئی کی مسلسل صوبائی حکومتوں کے دوران یہ تعداد دو ہزار بیس تک بڑھ کر ایک ہزار سات سو باسٹھ تک پہنچ گئی۔
مزید اعداد و شمار کے مطابق فروری دو ہزار چوبیس تک ان لائسنسوں کی تعداد بڑھ کر تین ہزار نو سو باسٹھ ہو گئی جو کہ اب بڑھ کر چار ہزار نو سو سترہ تک جا پہنچی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ لائسنس کسی وفاقی ادارے کی بجائے خود صوبائی حکومتوں کے دور میں جاری کیے گئے ہیں۔
معدنیات کے شعبے کے حوالے سے یہ پروپیگنڈا بھی کیا گیا کہ عسکری ادارے معدنیات پر مبینہ طور پر قبضہ کر رہے ہیں جسے ذمہ دار ذرائع نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عسکری اداروں بالخصوص ایف ڈبلیو او کے پاس اس پورے عرصے میں صرف ایک لائسنس رہا ہے جو دو ہزار پندره میں شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں دیا گیا تھا۔
یہ منصوبہ شمالی وزیرستان کے مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور علاقے کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سابقہ صوبائی حکومت کے دور میں منرل ڈیپارٹمنٹ میں سولہ ارب چورانوے کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیاں ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق غیر قانونی کان کنی کی وجہ سے صوبائی خزانے کو آٹھ ارب روپے کا براہ راست نقصان اٹھانا پڑا جو کہ ایک قابل ذکر رقم ہے۔
سابقہ صوبائی حکومت نادہندہ ٹھیکیداروں سے چار ارب اکتیس کروڑ روپے اور لیز ہولڈرز سے اکیاسی کروڑ روپے کے واجبات وصول کرنے میں ناکام رہی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ نااہلی اور مالی بے ضابطگیوں کو چھپانے کے لیے اب بعض حلقوں کی طرف سے وفاق پر الزام تراشی کی جا رہی ہے۔
پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی معدنی ذخائر موجود ہیں جن میں سندھ کی تھر کول فیلڈ سرفہرست ہے جہاں کوئلے کے وسیع ذخائر ملک کی توانائی کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔
پنجاب میں کھیوڑا نمک کی دنیا کی دوسری بڑی کان، چنیوٹ میں لوہے کے ذخائر اور پوٹھوہار میں تیل و گیس کے ذخائر موجود ہیں۔
بلوچستان اور گلگت بلتستان کے خطوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے قدرتی معدنی ذخائر سے مالا مال کیا ہے جہاں مختلف پراجیکٹس پر کام جاری ہے۔
آئین کے مطابق معدنیات کی رائلٹی اور آمدن کا بڑا حصہ براہ راست متعلقہ صوبائی خزانے میں ہی جمع ہوتا ہے جس سے صوبے خود کفالت کی طرف بڑھتے ہیں۔
خیبر پختونخوا مائنز اینڈ منرلز ترمیمی بل کا مسودہ صوبائی محکموں نے مائننگ مافیا کے خاتمے اور ڈیجیٹل سسٹم کے نفاذ کے لیے خود تیار کیا تھا۔





اپنی رائے دیں