کراچی میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات رونما ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور تین خواتین زخمی ہوئی ہیں۔ متاثرین کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق پہلا واقعہ لیاقت آباد نمبر 9 میں نیو رضوی دواخانے کے قریب پیش آیا جہاں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے تین خواتین شدید زخمی ہو گئیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ملزمان واردات کے بعد فرار ہوتے ہوئے فائرنگ کر رہے تھے۔
زخمی ہونے والی خواتین میں عابدہ، حنا اور رفعہ شامل ہیں۔ عابدہ کو ابتدائی طبی امداد کے لیے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ حنا اور رفعہ کو عباسی شہید ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب شہر کے ایک اور علاقے شفیق موڑ کے قریب پمپ کے نزدیک فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا جس میں ایک شخص موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ مقتول کی شناخت رحیم اللہ کے نام سے ہوئی ہے جس کی لاش عباسی شہید ہسپتال منتقل کر دی گئی۔
پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ذرائع سے مدد لی جا رہی ہے۔
شہر میں بڑھتے ہوئے فائرنگ کے واقعات پر شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے گا۔
کراچی میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس کی جانب سے گشت میں اضافہ کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر قریبی تھانے یا ہیلپ لائن پر دیں۔
واضح رہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں اسٹریٹ کرائم اور فائرنگ کے واقعات پر قابو پانا پولیس اور انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد شہر کے مختلف حصوں میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق رحیم اللہ کے قتل کے محرکات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ آیا یہ واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ کارفرما ہے۔ تفتیشی ٹیمیں تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں۔
زخمی ہونے والی خواتین کی حالت کے بارے میں ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ ڈاکٹرز ان کی مکمل صحت یابی کے لیے کوشاں ہیں۔
شہر میں فائرنگ کے ان واقعات کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کاروباری مراکز بھی عارضی طور پر متاثر ہوئے۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں اسلحہ کی نمائش اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
پولیس کی جانب سے علاقے میں ناکے بندی کر کے مشکوک افراد کی تلاشی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کا عزم ہے کہ شہر میں کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امن قائم رکھا جائے گا۔
اس واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے تاکہ مفرور ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔ عوام سے بھی تعاون کی اپیل کی گئی ہے تاکہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔




اپنی رائے دیں