جماعت اسلامی پاکستان نے ملک بھر میں جاری مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف آج جمعہ کے روز ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ ملک کے تقریباً 150 چھوٹے بڑے شہروں میں بیک وقت دھرنے دیے جائیں گے تاکہ حکومتی پالیسیوں پر عوامی ردعمل کا اظہار کیا جا سکے۔
اس سلسلے میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں حقیقی نظام کی تبدیلی کے لیے ایک طویل اور پرعزم جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت کا مقصد محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں بلکہ عوام کے بنیادی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعظم نے پیٹرولیم لیوی کا بوجھ عوام پر سے ختم نہ کیا تو جماعت اسلامی کے پاس اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک چلا کر جماعت اسلامی نے عوام میں شعور بیدار کیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج پاکستان کا ہر شہری پیٹرولیم لیوی کی حقیقت سے آگاہ ہو چکا ہے اور یہ جماعت اسلامی کی عوامی بیداری مہم کا ہی نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتیں عوامی مسائل پر بات کرنے سے گریزاں ہیں جبکہ جماعت اسلامی ہر پلیٹ فارم پر عوام کی آواز بن رہی ہے۔
کراچی کی مقامی سیاست پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ان کی جماعت کا مقابلہ کسی خاص سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ اپنے نو ٹاؤنز میں تعمیر و ترقی کے اہداف سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی میں عوامی خدمت کے مشن کو آگے بڑھا رہی ہے اور بلدیاتی سطح پر ترقیاتی کاموں کو ترجیح دے رہی ہے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے آج کے احتجاج کے لیے ملک بھر میں تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ پارٹی قیادت نے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پرامن طریقے سے اپنے مطالبات کو حکومت تک پہنچائیں اور عوام کو درپیش مشکلات کے خاتمے کے لیے آواز بلند کریں۔
واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے گزشتہ کچھ عرصے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی کے بلوں میں اضافے کے خلاف ملک گیر تحریک شروع کر رکھی ہے۔ اس تحریک کا بنیادی مطالبہ آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظر ثانی اور عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جماعت اسلامی کا یہ احتجاجی پروگرام حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ احتجاج کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جانے کی توقع ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ جماعت اسلامی عوامی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کارکنوں کو تلقین کی کہ وہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور پرامن احتجاج کے ذریعے حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کریں۔
ملک کے مختلف شہروں میں جماعت اسلامی کے مقامی عہدیداران نے احتجاجی مقامات کا تعین کر لیا ہے جہاں کارکنان جمع ہو کر حکومت مخالف نعرے بازی کریں گے۔ احتجاج کے دوران ٹریفک کے نظام کو برقرار رکھنے اور شہریوں کی سہولت کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کی قیادت کا ماننا ہے کہ عوامی دباؤ ہی حکومت کو عوام دوست فیصلے کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اسی لیے آج کے احتجاج کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے جس سے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
احتجاج کے حوالے سے مختلف شہروں کی انتظامیہ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنماؤں نے توقع ظاہر کی ہے کہ عوام کی بڑی تعداد آج کے دھرنوں میں شرکت کر کے اپنے حقوق کا مطالبہ کرے گی۔
آخر میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی صورت میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج کا سلسلہ مختلف شکلوں میں جاری رہے گا۔





اپنی رائے دیں