کراچی میں خطرناک وبائی بیماری منکی پاکس کے پھیلاؤ میں تیزی آنے لگی ہے اور طبی حلقوں کی جانب سے مزید دو افراد میں اس بیماری کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ شہرِ قائد میں اس وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیشِ نظر طبی اداروں اور ہسپتالوں میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو بروقت بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ذرائع کے مطابق منکی پاکس کے تازہ ترین کیسز میں سامنے آنے والے دونوں متاثرہ افراد آپس میں گہرے دوست ہیں اور شہر کے ایک مقامی کیفے ٹیریا میں ملازمت کرتے ہیں۔ ان دونوں نوجوانوں کے جسموں پر وائرس کی علامات کے طور پر مخصوص دانے ظاہر ہوئے تھے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
متاثرہ افراد کی رپورٹ آنے کے بعد فوری طور پر ان کا علاج شروع کر دیا گیا ہے جبکہ محکمہ صحت کی ٹیمیں ان کے قریبی رابطوں کی بھی جانچ پڑتال کر رہی ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد شہریوں میں ایک بار پھر اس بیماری کے حوالے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور حفاظتی تدابیر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
طبی ذرائع کے مطابق منکی پاکس کی تصدیق کے بعد نیو کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک اور مشتبہ مریض کو بھی سندھ انفیکشز ڈیزیز ہسپتال نیپا منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس نئے مشتبہ مریض کی منتقلی کے بعد مذکورہ خصوصی ہسپتال میں زیرِ علاج منکی پاکس کے کل مریضوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں داخل تمام مریضوں کو ماہر ڈاکٹروں کی زیرِ نگرانی انتہائی نگہداشت اور خصوصی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے دیگر وبائی امراض کی طرح اس مرض سے نبردآزما ہونے کے لیے بھی تمام ضروری طبی وسائل بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
صحت کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چند روز قبل پشاور سے کراچی آنے والے دو افراد میں بھی منکی پاکس کی تصدیق ہوئی تھی جو سہراب گوٹھ کے علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔ پشاور سے آنے والے یہ دونوں مریض بھی اسی سندھ انفیکشز ڈیزیز ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور ان کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سندھ انفیکشز ڈیزیز ہسپتال میں داخل کُل مریضوں میں چار مرد، دو خواتین اور ایک چالیس دن کا شیرخوار بچہ شامل ہے۔ ان تمام مریضوں کی الگ الگ وارڈز میں دیکھ بھال کی جا رہی ہے تاکہ انفیکشن کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
نومولود بچے کے حوالے سے طبی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس معصوم بچے کو مبینہ طور پر ختنہ کرانے کے دوران یہ بیماری منتقل ہوئی تھی۔ اس واقعے کے بعد بچوں کے طبی طریقہ کار اور جراثیم سے پاک ماحول کی فراہمی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ منکی پاکس ایک وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جو قریبی جسمانی رابطے یا متاثرہ شخص کے زیرِ استعمال اشیاء کے ذریعے دوسرے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے۔ اس بیماری کی علامات میں بخار، جسم پر دانے یا آبلے بننا، اور غدود کا سوج جانا شامل ہیں۔
شہر میں بڑھتے ہوئے کیسز کے تناظر میں طبی ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صفائی کا خاص خیال رکھیں اور کسی بھی مشتبہ علامت ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر قریبی ہسپتال سے رجوع کریں۔ بروقت تشخیص اور علاج سے اس بیماری پر قابو پانا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔
محکمہ صحت سندھ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور عوامی سطح پر احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی مہم چلانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں ہسپتالوں کے عملے کو بھی خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
شہر میں منکی پاکس کے کیسز سامنے آنے کے بعد مقامی انتظامیہ بھی الرٹ ہو گئی ہے اور طبی عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام آنے والے مشتبہ مریضوں کی فوری سکریننگ کو یقینی بنائیں۔ اس حوالے سے تمام متعلقہ ہسپتالوں میں ادویات اور حفاظتی کٹس کا ذخیرہ بھی مکمل کیا جا رہا ہے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں بلکہ مستند طبی مشوروں پر عمل کریں تاکہ اس وبائی مرض کے پھیلاؤ کو موثر طریقے سے روکا جا سکے۔ صحت کے عالمی اداروں کی ہدایات کی روشنی میں پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں پہلے ہی حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔





اپنی رائے دیں