لاہور کے معروف علاقے سمن آباد میں بدھ کے روز ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جہاں پہلے گول چکر کے نزدیک بجلی کی تاروں میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اس حادثے کے نتیجے میں مقامی رہائشیوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی اور لوگ فوری طور پر اپنے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے۔
آگ لگنے کا یہ واقعہ بجلی کے ایک کھمبے سے لٹکتی ہوئی تاروں میں پیش آیا، جہاں سے شعلے بلند ہوتے دیکھ کر فوری طور پر متعلقہ اداروں کو مطلع کیا گیا۔ تاروں میں آگ لگنے کی وجہ سے اس زون کی بجلی کی فراہمی معطل کر دی گئی تاکہ مزید کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔
خوش قسمتی سے ریسکیو ٹیموں کے جائے وقوعہ پر پہنچنے سے پہلے ہی تاروں میں لگی ہوئی آگ خود بخود بجھ گئی، جس سے ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔ اگر آگ پر بروقت قابو نہ پایا جاتا یا یہ خود نہ بجھتی تو اردگرد کی عمارتوں اور دکانوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا تھا۔
اس واقعے کے بعد مقامی شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ شہر کے کئی حصوں میں بجلی کی تاروں کے خطرناک گھچے کھمبوں پر لٹک رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مسائل کی وجہ سے معمولی فالٹ بھی بڑے آتشزدگی کے واقعات کا سبب بن سکتے ہیں۔
شہریوں نے لیسکو کے عملے کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے اور نشاندہی کی کہ کھمبوں کے ساتھ نئے میٹرز نصب کرتے وقت عملہ عام طور پر بجلی کی تاروں کو بے ڈھنگے طریقے سے لٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔ اس لاپرواہی کی وجہ سے شہر بھر میں عوام کو مسلسل خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی لاہور کے مختلف علاقوں میں بجلی کی تاروں اور ٹرانسفارمرز میں آگ لگنے کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ اس نوعیت کے حادثات نہ صرف بجلی کے نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی شدید خطرہ بنتے ہیں۔
متاثرہ علاقے کے مکینوں نے اعلیٰ حکام اور لیسکو انتظامیہ سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ شہر بھر میں بجلی کے تاروں کے اس بوسیدہ اور خطرناک نظام کو فی الفور درست کریں۔ تاروں کے ان بے ہنگم گھچوں کو منظم طریقے سے کھمبوں پر لگایا جانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ بجلی کی تاروں کی باقاعدہ انسپکشن اور مرمت نہ ہونے کی وجہ سے ایسے حادثات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ خستہ حال تاریں اور ان پر اضافی بوجھ شارٹ سرکٹ کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے جو کہ کسی بھی وقت بڑی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔
دوسری جانب شہر میں بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے طویل المدتی منصوبوں پر کام کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں جہاں معمولی نوعیت کے کاموں میں بھی غفلت برتی جاتی ہے۔
سمن آباد کے اس واقعے کے بعد ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا ہمارے شہری ادارے کسی بڑے حادثے کے منتظر رہتے ہیں؟ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حفاظتی تدابیر کو نظر انداز کرنے کا یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے اور ذمہ داروں کا قبل از وقت تعین کیا جانا چاہیے۔
شہر میں بجلی کی بندش سے نہ صرف گھریلو صارفین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی معطل ہو جاتی ہیں۔ سمن آباد میں آگ لگنے کے اس واقعے کے بعد بھی کافی دیر تک بجلی کی فراہمی معطل رہی جس سے تجارتی امور متاثر ہوئے۔
مقامی تاجروں اور دکانداروں نے بھی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بازاروں اور تجارتی مراکز کے اردگرد لٹکتی ہوئی تاروں کو فوری طور پر محفوظ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کے ایسے واقعات سے ان کا قیمتی سامان بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
سمن آباد کے پہلے گول چکر کے قریب پیش آنے والا یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اس طرح کے حادثات مستقبل میں بھی قیمتی املاک کے نقصان کا سبب بنتے رہیں گے۔





اپنی رائے دیں