مواد پر جائیں
اتوار، 1 نومبر 2026 21 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
پاکستان نے عمان کو شکست دے کر ہانگ کانگ سکسز پلیٹ ٹائٹل جیت لیا28 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ تاحال موصول نہیں ہوا، سعید غنیبنڈس لی گا: بائرن میونخ اور بوروسیا ڈورٹمنڈ کا میچ 2-2 سے برابرفرح خان نے ایشوریہ رائے کو بالی وڈ کی واحد قدرتی خوبصورت اداکارہ قرار دے دیابرطانیہ کے شہر کوونٹری میں والدین کے ایصالِ ثواب کے لیے محفلِ قرآن خوانیبیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کے لیے اہم ہدایات جاریپی آئی اے کے فضائی بیڑے میں پہلا جدید بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر شاملجرمنی کے 34 شہروں میں نوجوانوں کا احتجاج، پرتشدد واقعات میں پولیس اہلکار زخمیکراچی پورٹ پر کھاد اور گندم سے لدے دو جہازوں کی آمدسوئی ناردرن نے گیس کے نئے گھریلو کنکشنز پر پابندی غیر معینہ مدت تک بڑھا دیکবাڈی چیمپئنز لیگ کے دوسرے ایڈیشن میں دس ٹیمیں شاملوزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ٹرائی اینگلر سیریز کا فائنل جیتنے پر قومی ٹیم کو مبارکبادبھارت میں ٹریفک حادثہ، معروف گلوکار ہنی سنگھ کا بھانجا جاں بحقایرانی حملوں سے مشرق وسطیٰ میں 24 امریکی فوجی اڈے اور 274 عمارتیں تباہلاہور میں ٹرین حادثے اور مختلف واقعات میں خاتون سمیت چار افراد جاں بحقسیالکوٹ: ٹک ٹاکر کی مہندی تقریب میں بھگدڑ، ایک شخص ہلاکبائنانس نے سائبر حملے کے دوران چرائے گئے اثاثوں کا نوے فیصد حصہ واپس کر دیاآسٹریلوی پی جی اے چیمپئن شپ، تاریخی جو کرک ووڈ کپ سڈنی پہنچ گیاامہرسٹ کالج نے ٹفٹس یونیورسٹی کو 21 کے مقابلے میں 24 پوائنٹس سے شکست دیصادق پبلک اسکول بہاولپور نے تقریری مقابلے کی ٹرافی جیت لی
کراچی

کراچی: شہید ملت روڈ پر آن لائن رائیڈر سے موٹر سائیکل اور موبائل فون چھین لیا گیا

شہر قائد میں ڈکیتی کی واردات کے بعد متاثرہ نوجوان سڑک کنارے بیٹھ کر روتا رہا، پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنا شروع کر دی۔

کراچی: شہید ملت روڈ پر آن لائن رائیڈر سے موٹر سائیکل اور موبائل فون چھین لیا گیا

کراچی کے علاقے شہید ملت روڈ پر گزشتہ شب ڈکیتی کی ایک افسوسناک واردات پیش آئی جس میں ایک آن لائن بائیک رائیڈر کو مسلح ملزمان نے لوٹ لیا۔ موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے رائیڈر کو روک کر اس سے قیمتی موبائل فون اور موٹر سائیکل چھین لی۔

واردات کے بعد متاثرہ نوجوان رائیڈر شدید صدمے کی حالت میں سڑک کنارے بیٹھ کر روتا رہا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے جس میں نوجوان کو اپنی بے بسی پر اشکبار دیکھا جا سکتا ہے۔

متاثرہ رائیڈر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے ساتھ ڈکیتی کی یہ تیسری واردات ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ اس نے دو ماہ قبل ہی 25 ہزار روپے مالیت کا موبائل فون خریدا تھا جو اب ڈاکو لے اڑے ہیں۔

نوجوان کا کہنا تھا کہ اس کی موٹر سائیکل کی مالیت ایک لاکھ روپے تھی اور اب اس کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ دوبارہ سواری خرید سکے۔ اس نے حکام سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔

پولیس حکام نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاحال متاثرہ شخص کی جانب سے کوئی باقاعدہ شکایت درج نہیں کرائی گئی ہے۔ تاہم پولیس نے جائے وقوعہ اور اردگرد کے علاقوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

شہر قائد میں اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے۔ آن لائن رائیڈرز، جو اپنی روزی روٹی کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، اکثر ایسے جرائم پیشہ عناصر کا آسان ہدف بن جاتے ہیں۔

پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شواہد ملتے ہی قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا جائے گا تاکہ متاثرہ نوجوان کو انصاف مل سکے۔

کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کے خلاف آپریشنز کے باوجود وارداتوں کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اہم شاہراہوں پر گشت بڑھایا جائے تاکہ محنت کش طبقے کو ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔

اس سے قبل بھی کراچی میں ڈکیتی کی کئی بڑی وارداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں جن میں سے کچھ کا سراغ ملازمین کی ملی بھگت سے لگایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جرائم کے خاتمے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہی ہے۔

شہر میں بڑھتی ہوئی ڈکیتیوں کے باعث آن لائن سروسز فراہم کرنے والے رائیڈرز میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ رائیڈرز کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں کام کرنا اب ان کے لیے جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف ہو چکا ہے۔

پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قریبی تھانے یا ہیلپ لائن پر دیں۔ شہریوں کا تعاون جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ شہید ملت روڈ جیسے مصروف ترین علاقوں میں ایسی وارداتیں انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔

متاثرہ نوجوان کی دہائی نے ایک بار پھر شہر میں امن و امان کی صورتحال کو اجاگر کر دیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے ملزمان جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

کراچی کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں