مظفرآباد میں طبی غفلت کا ایک انتہائی تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک خاتون کے پیٹ سے آپریشن کے پورے ایک سال بعد سرجیکل پٹیاں نکالی گئی ہیں۔ اس ہولناک انکشاف کے بعد حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور عوام کی جانب سے ذمے داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں واقع ڈی ایچ کیو اسپتال میں پیش آیا جہاں کچھ عرصہ قبل ایک خاتون کا آپریشن کیا گیا تھا۔ دورانِ جراحی مبینہ طور پر ڈاکٹروں کی غیر ذمہ داری کے باعث پٹیاں خاتون کے جسم کے اندر ہی رہ گئی تھیں جو طویل عرصے تک تکلیف کا باعث بنتی رہیں۔
متاثرہ خاتون کو ایک سال تک شدید جسمانی اور اندرونی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا تاہم جب بعد میں ان کے دوبارہ طبی ٹیسٹ اور تشخیصی مراحل طے کیے گئے تو حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔ ڈاکٹروں نے جب اندرونی معائنہ کیا تو انکشاف ہوا کہ پیٹ کے اندر پٹیاں موجود ہیں جنہیں فوری طور پر نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
خاتون کے پیٹ سے نکالی جانے والی ان پٹیوں کا وزنی مجموعی طور پر تقریباً دو سو گرام کے لگ بھگ بتلایا گیا ہے جو کہ انتہائی تشویشناک امر ہے۔ ایک سال تک جسم کے اندر جراحی کا سامان موجود رہنے سے خاتون کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے تھے اور ان کی صحت شدید متاثر ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق اس واقعہ کا فوری نوٹس آزاد کشمیر کے وزیراعظم نے لے لیا ہے اور انہوں نے متعلقہ حکام کو اس کی تحقیقات کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ وزیراعظم نے اس معاملے کو انتہائی سنجیدہ نوعیت کا قرار دیتے ہوئے فوری طور پر رپورٹ طلب کی ہے۔
حکومتی احکامات کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ آزاد کشمیر کو فوری طور پر اس واقعے کی شفاف تحقیقات شروع کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔ ڈی جی ہیلتھ اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کس جراحی ٹیم کی غفلت کی وجہ سے یہ سنگین غلطی پیش آئی اور مریضہ کی زندگی خطرے میں ڈالی گئی۔
تحقیقاتی کمیٹی اس بات کا بھی تعین کرے گی کہ آپریشن کے دوران حفاظتی تدابیر کیوں اختیار نہیں کی گئیں اور جراحی کے آلات یا پٹیوں کا حساب رکھنے کے معیاری طریقہ کار پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔ ذمہ داران کی نشاندہی کے بعد ان کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں غفلت اور لاپرواہی کے ایسے واقعات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس میں کوتاہی برتنے والوں کی کوئی رعایت نہیں ہوگی۔
ڈی ایچ کیو اسپتال باغ کے اس واقعے کے بعد مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں میں بھی شدید ردعمل پایا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں غریب مریضوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے عملے کے خلاف ہمیشہ کے لیے سخت مثال قائم کی جانی چاہیے۔
ماہرینِ صحت کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران جراحی کا سامان اندر رہ جانا ایک سنگین طبی غلطی ہے جو کہ عملے کی توجہ میں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ ایسے واقعات سے نہ صرف مریض کی صحت تباہ ہوتی ہے بلکہ پورے طبی نظام پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔
متاثرہ خاتون کے اہل خانہ نے بھی حکومت کے نوٹس لینے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے لیکن ساتھ ہی مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کو شفاف بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے ہر ممکن فورم پر جائیں گے تاکہ ان کی تکلیف کا ازالہ ہو سکے۔
حکام کی جانب سے توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ چند روز کے اندر اندر انکوائری رپورٹ مکمل کر کے وزیراعظم کو پیش کر دی جائے گی۔ رپورٹ کی روشنی میں غفلت کے مرتکب ڈاکٹروں اور دیگر عملے کے خلاف تادیبی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔
متاثرہ خاتون اس وقت زیرِ علاج ہیں اور ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کی صحت یابی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے اس پورے معاملے پر خاموشی اختیار کی گئی ہے تاہم اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔





اپنی رائے دیں