مکہ مکرمہ میں تعینات ڈائریکٹر جنرل حج عبدالوہاب سومرو کا اچانک تبادلہ کر دیا گیا ہے اور انہیں فوری طور پر چارج چھوڑ کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
یہ اہم تقرری اور تبادلے کا نوٹیفکیشن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس کے بعد وزارت مذہبی امور میں ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ حج آپریشن کی تیاریاں جاری ہیں۔
عبدالوہاب سومرو جو کہ ڈی ایم جی گروپ کے گریڈ اکیس کے افسر ہیں، ان دنوں ایک ہفتے کی چھٹی پر پاکستان آئے ہوئے تھے جب ان کی برطرفی کا یہ حکم سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈی جی حج کے اس ناگہانی تبادلے کو گزشتہ روز ہونے والے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں مسلسل عدم پیشی کے واقعے سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔
سعودی عرب میں مصروفیت کی بنیاد پر انہوں نے زوم کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی درخواست کی تھی جسے قائمہ کمیٹی نے مسترد کرتے ہوئے فوری تبادلے کا مطالبہ کیا تھا۔
سبکدوش ہونے والے ڈی جی حج کی فارن سروس کی مدت چودہ اپریل دو ہزار چھبیس کو مکمل ہو چکی تھی جس کے بعد انہیں توسیع دی گئی تھی۔
انہیں سب سے پہلے حج دو ہزار چھبیس کا آپریشن کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے لیے توسیع دی گئی تھی اور بعد ازاں غیر اعلانیہ مدت تک عہدے پر برقرار رکھا گیا۔
انہیں آئندہ برس کے حج انتظامات اور تیاریاں مکمل کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی اور وہ سعودی عرب میں جاری ہائرنگ کے عمل کی نگرانی کر رہے تھے۔
سعودی عرب میں سولہ روز بعد آٹھ نومبر سے شروع ہونے والی بین الاقوامی حج کانفرنس میں اہم معاہدے طے پانے ہیں جن کی تمام تر تیاریاں پہلے سے مکمل کی جا چکی ہیں۔
عبدالوہاب سومرو کو بطور ڈی جی حج چار کامیاب حج آپریشنز مکمل کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور ان کے دور میں کئی اہم انتظامی فیصلے کیے گئے۔
حج دو ہزار پچیس کے اختتام پر ڈائریکٹر حج مکہ فہیم خان آفریدی کے ساتھ بعض انتظامی امور پر اختلافات بھی سامنے آئے تھے جن کے بعد کارروائی کی گئی تھی۔
اختلافات کی بنیاد پر فهیم خان آفریدی کو نہ صرف پاکستان واپس بھیج دیا گیا تھا بلکہ مبینہ طور پر ان کی گریڈ انیس سے گریڈ اٹھارہ میں تنزلی بھی کر دی گئی تھی۔
وزارت مذہبی امور کے حکام کے مطابق حج دو ہزار ستائیس کا آپریشن اور سعودی عرب میں مقامی سطح پر ہائرنگ کا عمل پہلے ہی باقاعدگی سے شروع ہو چکا ہے۔
بین الاقوامی کانفرنس کے دوران ہونے والے معاہدے پاکستان کے حج کوٹہ اور عازمین کی سہولیات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔
نئے احکامات کے اجرا کے بعد وزارت میں امور کو چلانے کے لیے مکہ مکرمہ کے ڈائریکٹر کو کرنٹ چارج دیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
بیوروکریسی کے حلقوں میں اس اچانک فیصلے پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں غور و خوض جاری ہے۔
حج انتظامات پر مامور تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی تسلسل کے ساتھ جاری رکھیں تاکہ عازمین کو کسی قسم کی مشکل نہ ہو۔




اپنی رائے دیں