مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:18
بریکنگ
ایم ڈی کیٹ نتائج اور سوالنامہ: پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلبحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہاسلام آباد میں این سی سی آئی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، 200 چینی باشندے گرفتارانگلینڈ کے خلاف فتح، حسن نواز کا عرفات منہاس کی شاندار کارکردگی پر اظہارِ خیالنئی آٹو پالیسی: 5 سال میں 6 ارب ڈالر کی گاڑیوں کی برآمد کا ہدف مقررروپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر مزید سستا، یورو اور برطانوی پاؤنڈ کی قیمت میں اضافہوالدہ کا شناختی کارڈ نہ ہونے پر بچے کا ب فارم کیسے بن سکتا ہے؟ نادرا کی وضاحتمیر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی خاتون پولیس افسر سمیت دیگر افسران کیخلاف کارروائی کی سفارشبھارتی گلوکارہ نیہا ککڑ نے تنقید کے باوجود متنازع گانے بنانے کی وجہ بتا دیلاہور میں امریکی جعلی ڈاک ٹکٹ فروخت کرنے والا ملزم گرفتارون ڈے سہ ملکی سیریز: پاکستان نے انگلینڈ کو 87 رنز سے ہرا دیاقومی ٹیم کی شاندار کارکردگی، ٹرائی سیریز میں انگلینڈ کو شکستخیبرپختونخوا میں امن و سلامتی اولین ترجیح ہے، ثمر ہارون بلورون ڈے ٹرائی سیریز، پاکستان نے انگلینڈ کو جیت کیلیے 303 رنز کا ہدف دے دیامیر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی سفارش کر دیوزیراعظم دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کو تیار ہیں، رانا ثناء اللہڈی جی حج مکہ مکرمہ عبدالوہاب سومرو کا اچانک تبادلہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایتپی ٹی آئی کا مشعال یوسفزئی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہنادرا کے 100 ملازمین کے خلاف کرمنل پروسیڈنگز کا آغاز کر دیا گیاکراچی میں مخدوش عمارتوں میں قائم نجی اسکول فوری بند کرنے کا حکم
پاکستان

میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی سفارش کر دی

کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میر رضا کی موت پشت پر گولی لگنے سے ہوئی اور پولیس تفتیش میں سنگین کوتاہیاں برتی گئیں۔

میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی سفارش کر دی

سندھ حکومت نے میر رضا علی کیس کی تحقیقات کے لیے قائم کیے جانے والے جوڈیشل کمیشن کی تفصیلی رپورٹ باضابطہ طور پر جاری کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں واقعے کے حوالے سے پولیس کی ابتدائی تفتیش پر شدید سوالات اٹھائے گئے ہیں اور اسے خودکشی قرار دینے کے مؤقف کو مسترد کیا گیا ہے۔

جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں کام کرنے والے اس جوڈیشل کمیشن نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد رپورٹ صوبائی حکومت کو پیش کی تھی۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد اس سنگین معاملے میں نئے حقائق سامنے آئے ہیں جو پولیس کی کارکردگی اور تفتیشی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان چھوڑتے ہیں۔

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق میر رضا کی موت کے معاملے میں حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کی موت پشت پر گولی لگنے کے زخم کی وجہ سے ہوئی۔ پولیس کا ابتدائی طور پر اس واقعے کو خودکشی قرار دینا حقائق کے منافی تھا اور اس سے کئی اہم شواہد بھی متاثر ہوئے۔

جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی نشان دہی کی ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران سنگین نوعیت کی کوتاہیاں کی گئیں اور کور اپ یعنی واقعے کو چھپانے کے خدشات کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے طرز عمل سے عوام کا پولیس پر سے اعتماد کم ہوا ہے۔

شواہد کے ضائع ہونے اور تفتیش میں سنگین نقائص سامنے آنے کے بعد کمیشن نے معاملے کی نئے سرے سے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم یعنی جے آئی ٹی تشکیل دینے کی پرزور سفارش کی گئی ہے۔

تجویز کردہ جے آئی ٹی کی سربراہی ڈی آئی جی عرفان بلوچ کے سپرد کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ اس ٹیم میں ملک کے اہم وفاقی اور صوبائی تحقیقاتی اداروں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے۔

کمیشن کی سفارش کے مطابق مجوزہ جے آئی ٹی میں انٹر سروسز انٹیلی جنس یعنی آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو یعنی آئی بی، پاکستان رینجرز سندھ اور سائبر کرائم ونگ کے اہلکار شامل ہونے چاہئیں تاکہ ہر زاویے سے گہرائی میں جا کر تفتیش کی جا سکے۔

اس کے علاوہ جوڈیشل کمیشن نے پولیس افسران اور اہلکاروں کے کردار کی الگ سے جانچ پڑتال کی بھی سفارش کی ہے۔ کمیشن کی رائے میں تفتیش کے دوران فرائض میں غفلت برتنے یا شواہد کو متاثر کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ پولیس اہلکاروں کے کردار کی جامع تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی جائے جو ابتدائی دنوں کے تفتیشی افسران کے اقدامات کا جائزہ لے۔

کمیشن نے واضح کیا ہے کہ کیس کے ابتدائی دس دنوں کے دوران تعینات رہنے والے تفتیشی افسران، جن میں ڈاکٹر اسامہ بھی شامل ہیں، کے خلاف باقاعدہ انکوائری کی جانی چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ مبینہ طور پر شواہد کیوں اور کیسے ضائع ہوئے۔

قصوروار ثابت ہونے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ فوجداری مقدمات کے تحت بھی قانونی کارروائی عمل میں لائے جانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

دوسری جانب میر رضا کے اہل خانہ کے قانونی مشیر اور معروف وکیل جبران ناصر نے اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی اس رپورٹ نے لواحقین کے تمام خدشات کو درست ثابت کر دیا ہے۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ ریکارڈ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ابتدائی مراحل میں بڑے پیمانے پر شواہد کو نقصان پہنچایا گیا اور جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ شروع ہی سے اہل خانہ کا بنیادی مؤقف رہا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن کی جانب سے سامنے آنے والے حقائق سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے ایک مضبوط اور بااختیار تحقیقاتی باڈی کی اشد ضرورت تھی تاکہ اصل مجرموں تک رسائی ممکن ہو سکے۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد سندھ حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ فوری طور پر سفارشات پر عمل درآمد کرتے ہوئے جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن جاری کرے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں