اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے ایک اہم تنظیمی فیصلے کے تحت پارٹی رہنما مشعال یوسفزئی کو باضابطہ طور پر شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بات کا باقاعدہ اعلان پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اندرونی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے اور تنظیمی اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی قیادت کا ماننا ہے کہ کسی بھی رہنما کی جانب سے ضابطے کی خلاف ورزی کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے میڈیا کے نمائندوں کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پارٹی کے سینئر رہنما فردوس شمیم نقوی کو یہ اہم ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ فردوس شمیم نقوی کی جانب سے مشعال یوسفزئی کو جلد ہی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس بھجوایا جائے گا۔
بیرسٹر گوہر نے اپنے بیان میں اس امر کی وضاحت کی کہ وہ ہمیشہ سے اس بات کے حامی رہے ہیں کہ پارٹی کے اندر ہر کارکن اور رہنما کو اپنی رائے کے اظہار کا مکمل حق حاصل ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب متعلقہ فورمز پر اختلاف رائے کا اظہار کیا جائے تو وہ اسے دل پر نہیں لیتے۔
تاہم چیئرمین پی ٹی آئی کا اس موقع پر یہ بھی کہنا تھا کہ بعض اوقات حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ انتظامی سطح پر سخت ایکشن لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ قدم اٹھانا اس لیے ضروری تھا تاکہ پارٹی کے اندر روایات اور اصولوں کا احترام قائم رکھا جا سکے۔
بیرسٹر گوہر نے انکشاف کیا کہ مشعال یوسفزئی کی طرف سے پارٹی کی سینئر قیادت کے خلاف کھل کر باتیں کی گئیں اور اس طرح کے عوامی بیانات نے تنظیمی اصولوں کی صریح خلاف ورزی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی پالیسی یا رویے کو اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
پارٹی کے اندرونی حلقوں کا اس حوالے سے مؤقف ہے کہ اس طرح کے بیانات سے نہ صرف جماعت کے اندرونی اتحاد کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ کارکنوں میں بھی ابہام پیدا ہوتا ہے۔ تمام رہنماؤں پر ہمیشہ سے لازم رہا ہے کہ وہ اپنے تحفظات ہمیشہ اندرونی فورمز پر اٹھائیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے یہ اہم انکشاف بھی کیا کہ مشعال یوسفزئی کے اس قسم کے رویے اور بیانات پر انہیں ماضی میں بھی وارننگ دی جا چکی تھی۔ اس کے باوجود ان کے طرز عمل میں مطلوبہ تبدیلی نہیں آئی جس کے بعد مجبورا یہ فیصلہ کرنا پڑا۔
سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کی جانب سے اس فیصلے کو پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی سیاسی منظر نامے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پارٹی کے اندر مختلف آراء کے باوجود نظم و ضبط نافذ کرنے کے لیے اب یہ سخت قدم اٹھایا گیا ہے۔
شوکاز نوٹس موصول ہونے کے بعد اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ مشعال یوسفزئی کی جانب سے اس پورے معاملے پر اپنا تحریری جواب باقاعدہ طور پر جمع کروایا جائے گا۔ اس جواب کے موصول ہونے کے بعد ہی پارٹی کی ڈسپلنری کمیٹی آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔
پاکستان تحریک انصاف ماضی میں بھی اپنے داخلی اور تنظیمی معاملات کو حل کرنے کے لیے اس طرح کے طریقہ کار اور تنظیمی ضوابط اپناتی رہی ہے۔ جماعت کے ترجمان کے مطابق پارٹی مفادات کو ہمیشہ ذاتی آراء پر مقدم رکھا جائے گا۔
یہ نیا سیاسی تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مرکزی سیاسی جماعت کو پہلے ہی متعدد سیاسی اور قانونی محاذوں پر چیلنجز کا سامنا ہے۔ مبصرین کے مطابق جماعت کو اس وقت داخلی انتشار سے بچانے کے لیے اس طرح کے سخت فیصلوں کی ضرورت تھی۔
آئندہ چند روز کے دوران اس نوٹس کے حوالے سے مزید قانونی اور تنظیمی کارروائی متوقع ہے جس کے بعد اس پورے معاملے پر صورتحال مزید واضح ہو گی۔ پارٹی قیادت کے اس قدم سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی برداشت نہیں ہوگی۔





اپنی رائے دیں