پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ایم ڈی کیٹ کے حالیہ امتحانات کے نتائج اور سوالنامہ جاری کرنے کے معاملے پر غور کرنے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس بدھ کے روز طلب کر لیا ہے۔
اس اجلاس میں ملک بھر سے ٹیسٹ لینے والے متعلقہ اداروں کے سربراہان اور پی ایم ڈی سی کے اعلیٰ حکام شرکت کر رہے ہیں۔ اجلاس کا بنیادی مقصد حالیہ امتحانات کے حوالے سے درپیش خدشات کا جائزہ لینا ہے۔
خیال رہے کہ یہ اجلاس سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے ایک اہم اجلاس کے فوراً بعد بلایا گیا ہے۔ سینیٹ کمیٹی نے منگل کے روز منعقدہ اجلاس میں ایم ڈی کیٹ کے نتائج اور شفافیت پر سوالات اٹھائے تھے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت سینیٹر عامر چشتی نے کی تھی۔ اس موقع پر کمیٹی ارکان نے اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ امتحانات کے بعد طلبہ سے سوالنامہ واپس کیوں لیا گیا۔
کمیٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ ماضی میں طلبہ کو سوالناموں تک رسائی حاصل ہوتی تھی، جس سے امتحانی عمل میں شفافیت برقرار رہتی تھی۔ پرچہ پوشیدہ رکھنے کے عمل نے طلبہ اور والدین میں تشویش پیدا کی ہے۔
سندھ، بالخصوص کراچی کے طلبہ کی جانب سے نتائج کے حوالے سے شکایات سامنے آئی تھیں۔ طلبہ کا موقف ہے کہ نتائج ان کی توقعات کے مطابق نہیں ہیں، جس کے بعد پی ایم ڈی سی پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔
پی ایم ڈی سی حکام نے سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ امتحانات کے دوران کسی قسم کی بے ضابطگی نہیں ہوئی۔ تاہم، کمیٹی نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے سخت موقف اپنایا تھا۔
بدھ کو ہونے والے اجلاس میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ پی ایم ڈی سی ایم ڈی کیٹ کے سوالنامے کو ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا فیصلہ کرے گی۔ اس اقدام سے طلبہ کو اپنے نتائج کا درست اندازہ ہو سکے گا۔
اجلاس میں چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت کے نمائندے آن لائن شریک ہو رہے ہیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ہی حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ میڈیکل کے داخلہ ٹیسٹ میں شفافیت انتہائی ضروری ہے۔ طلبہ کا اعتماد بحال کرنے کے لیے پی ایم ڈی سی کو تمام تر تفصیلات عوامی سطح پر جاری کرنی چاہئیں۔
پی ایم ڈی سی کی جانب سے جاری کردہ کسی بھی فیصلے کا اطلاق ملک بھر میں منعقد ہونے والے ایم ڈی کیٹ پر ہوگا۔ اس حوالے سے حتمی اعلامیہ اجلاس کے اختتام پر جاری کیے جانے کی توقع ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بھی پی ایم ڈی سی کو ہدایت کی ہے کہ وہ امتحانی عمل کو مزید شفاف بنائے۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ طلبہ کے مستقبل سے جڑے معاملات میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
امید کی جا رہی ہے کہ پی ایم ڈی سی کا یہ فیصلہ طلبہ کی مشکلات کو کم کرنے اور امتحانی عمل میں شفافیت کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔





اپنی رائے دیں