سندھ حکومت کی جانب سے میر رضا کیس کی شفاف تحقیقات اور حقائق سامنے لانے کے لیے قائم کیے گئے جوڈیشل کمیشن نے اپنی تفتیشی رپورٹ مکمل کر لی ہے۔ اس ایک رکنی جوڈیشل کمیشن کی سربراہی جسٹس عمر سیال نے کی جنہوں نے کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔
کمیشن کی جانب سے جاری کردہ آبزرویشنز میں کیس کی تفتیش کے دوران ذمہ داریاں نبھانے میں ناکامی پر بیوروکریٹس اور پولیس کے اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں سول انتظامیہ اور پولیس کے کل سولہ افسران اور اہلکاروں کے کردار کو زیر بحث لایا گیا ہے۔
تفتیشی کمیشن کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس ہائی پروفائل کیس کے دوران بعض سرکاری حکام نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت اور مجرمانہ کوتاہی کا مظاہرہ کیا۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیشن نے متعلقہ حکام کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لانے کی پرزور سفارش کی ہے۔
رقم کردہ تفصیلات کے مطابق کمیشن نے ایڈیشنل آئی جی پولیس کراچی آزاد خان کے کردار کو تو کلیئر قرار دیا ہے تاہم یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ کیس کی تحقیقاتی ٹیم خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ اس ٹیم کی کمزوریوں کی وجہ سے اصل حقائق تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
صحت کے محے کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری صحت طاہر سانگی کی کارکردگی میں قیادت اور نگرانی کا شدید فقدان نظر آیا ہے۔ ان کی مبینہ غفلت کی وجہ سے محکمے کے اندرونی امور اور کیس سے جڑے معاملات میں مطلوبہ بہتری اور بروقت فیصلے سامنے نہیں آ سکے۔
کمیشن نے اسپیشل سیکرٹری صحت شہریار میمن کے خلاف بھی باضابطہ انکوائری شروع کرنے کی واضح سفارش کی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس انکوائری کے نتیجے میں صحت کے شعبے سے جڑے مزید حقائق بھی سامنے آئیں گے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے گا۔
پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں پر بھی کڑی تنقید کی گئی ہے جہاں ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار کے بارے میں کمیشن نے لکھا کہ انہوں نے کیس کے دوران اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی۔ ان کا رویہ اس اہم معاملے میں انتہائی غیر سنجیدہ اور روایتی رہا۔
اسی طرح ڈی آئی جی عامر فاروقی کے حوالے سے بھی رپورٹ میں اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ انہوں نے بھی پیشہ ورانہ فرائض میں غفلت برتی۔ کمیشن کے مطابق دونوں ڈی آئی جیز میں قیادت کی صلاحیتوں اور ماتحتوں کی نگرانی کا سنگین فقدان پایا گیا۔
کمیشن کی رپورٹ میں اس امر کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ دونوں مذکورہ ڈی آئی جیز نے کمیشن کی جانب سے بھیجے گئے سوال نامے کے جو جوابات دیے وہ غیر تسلی بخش اور غیر سنجیدہ تھے۔ ان جوابات سے ظاہر ہوتا ہے کہ افسران اس معاملے کی سنگینی کا ادراک کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔
ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کے حوالے سے بھی کمیشن کی آبزرویشن میں کہا گیا ہے کہ ان کی کارکردگی میں بھی قیادت کی کمی واضح طور پر محسوس ہوئی۔ انہوں نے تفتیش کے دوران غیر معمولی اور روایتی طریقوں کا سہارا لیا جبکہ قانونی باریکیوں پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو جیسے افسران کو مستقبل میں اس نوعیت کے ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش سونپنے سے پہلے خصوصی تربیت فراہم کی جانی چاہیے۔ اس سے تفتیشی معیار میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔
کمیشن کی رپورٹ کا سب سے حساس پہلو ایک خاتون پولیس افسر کے حوالے سے ہے جہاں اے ایس پی ندا جنید کو غیر پیشہ ورانہ افسر قرار دیا گیا ہے۔ کمیشن کو اس امر کا شدید شک ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر میر رضا کیس میں سہولت کاری کا کردار ادا کیا ہے۔
انہی مشاہدات کی روشنی میں جوڈیشل کمیشن نے اے ایس پی ندا جنید کے کردار اور مبینہ سہولت کاری کے الزامات کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرانے کی سفارش کی ہے۔ تحقیقات کے بعد ہی اس بات کا حتمی تعین ہو سکے گا کہ حقائق کیا ہیں۔
سندھ حکومت اور متعلقہ محکمے اب اس تفصیلی جوڈیشل رپورٹ کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ کمیشن کی سفارشات کے مطابق فوری اور قانونی اقدامات کیے جا سکیں۔ عوامی حلقوں میں بھی اس رپورٹ کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے۔





اپنی رائے دیں