محکمہ تعلیم سندھ نے کراچی کے مختلف علاقوں میں خطرناک اور مخدوش عمارتوں کے اندر چلنے والے تمام نجی تعلیمی اداروں کو فوری طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ طلباء اور اساتذہ کی جان و مال کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ محکمہ تعلیم نے شہر قائد میں اس حوالے سے سخت اقدامات اٹھانے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔
جاری کردہ ہدایات کے مطابق ان مخدوش عمارتوں میں حصولِ علم کے لیے آنے والے تمام بچوں کو فوری طور پر محفوظ اور متبادل مقامات پر منتقل کرنے کی سخت ہدایت دی گئی ہے۔ محکمہ تعلیم نے اس اہم معاملے پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی بھی بڑے حادثے سے بروقت بچا جا سکے۔ بچوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فوری اقدام کیا گیا ہے۔
متعلقہ حکام نے واضح کیا ہے کہ شہر بھر میں موجود نجی اسکولوں کی عمارتوں کی جامع جانچ پڑتال کا عمل آئندہ پندرہ روز کے اندر باقاعدہ طور پر شروع کر دیا جائے گا۔ اس معائنے کے دوران ان تمام عمارات کی نشاندہی کی جائے گی جو کسی بھی لحاظ سے خطرناک یا جزوی طور پر مخدوش قرار دی گئی ہیں۔ محکمہ تعلیم نے تمام متعلقہ ٹیموں کو اس ضمن میں ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ہدایت نامے میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ خطرناک قرار دی جانے والی عمارات کے اندر کسی بھی طالبعلم، استاد یا دیگر عملے کی موجودگی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ غیر محفوظ ماحول میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنا قانوناً جرم تصور ہوگا اور اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکام کے مطابق اساتذہ اور طلباء کی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔
معائنے کے اس عمل کے دوران غیر محفوظ عمارات میں قائم اسکولوں کی رجسٹریشن کا بھی ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ تمام قانونی تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے تعلیمی اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ غیر رجسٹرڈ اداروں کے خلاف بھی بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔
جہاں کہیں بھی ضرورت محسوس ہوگی، محکمہ تعلیم کے احکامات کی روشنی میں اسکول کو فوراً سیل یا بند کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد معصوم بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑنے سے بچانا ہے۔ صوبائی محکمہ تعلیم نے اسکولوں کی تمام ایسوسی ایشنز کو بھی اس صورتحال سے سختی سے آگاہ کر دیا ہے۔
نجی اسکولوں کی ایسوسی ایشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی عمارتوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کے مقررہ کردہ معیار پر فوری طور پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ تمام تعلیمی اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ عمارتوں کی مضبوطی سے متعلق حکومتی قوانین کی سختی سے پاسداری کریں۔ اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
اس کے علاوہ محکمہ تعلیم نے شہر کے تمام غیر رجسٹرڈ نجی تعلیمی اداروں کی بھی نشاندہی کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے جن کے خلاف بھی قانون کے مطابق سخت قدم اٹھائے جائیں گے۔ غیر قانونی طور پر چلنے والے اسکولوں کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ والدین کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر محفوظ اسکولوں سے گریز کریں۔
محکمہ تعلیم نے تمام متعلقہ افسران سے نجی اسکولوں کے معائنے، خطرناک قرار دی جانے والی عمارات اور متاثرہ طلبہ کی منتقلی سے متعلق تفصیلی رپورٹ پندرہ روز کے اندر اندر طلب کر لی ہے۔ رپورٹ کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا اور غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بچوں کی حفاظت حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ محکمہ تعلیم کا یہ قدم کراچی کے طلباء کے والدین کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے۔ شہر کے تعلیمی حلقوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
محکمہ تعلیم سندھ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کراچی بھر میں بچوں کے لیے ایک محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے گا۔ ناقص اور مخدوش ڈھانچے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کا یہ سلسلہ بلا تعطل جاری رہے گا جب تک تمام طلباء محفوظ عمارتوں میں منتقل نہیں ہو جاتے۔ حکومتی مشینری اس مقصد کے لیے متحرک ہو چکی ہے۔
والدین اور شہریوں کو بھی اس سلسلے میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے قبل ہی حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔ محکمہ تعلیم کا جاری کردہ مراسلہ تمام متعلقہ حکام کو ارسال کر دیا گیا ہے جس پر عمل درآمد کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
آئندہ آنے والے دنوں میں اسکولوں کی عمارتوں کی انسپیکشن کا کام مزید تیز کر دیا جائے گا اور جن عمارتوں میں خامی پائی گئی انہیں فوری طور پر سیل کر دیا جائے گا۔ حکومت نے اس عزم کو دہرایا ہے کہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی جان کا تحفظ بھی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔





اپنی رائے دیں