بھارتی شوبز انڈسٹری کی مقبول اور جانی پہچانی گلوکارہ نیہا ککڑ نے حال ہی میں اپنے تخلیقی کام اور سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ انہیں پہلے سے ہی اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے بعض گانے ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین کی بھرپور توجہ کا مرکز بن جائیں گے۔
گلوکارہ نے نامور بھارتی اداکارہ کرینہ کپور خان کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو کے دوران اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ ایسے گانے جان بوجھ کر بناتی ہیں جن پر شائقین کی جانب سے اکثر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کے واضح امکانات کے باوجود اس قسم کی موسیقی کو تخلیق کرنے کے پیچھے ایک خاص مقصد اور سوچی سمجھی حکمت عملی کارفرما ہوتی ہے۔
نیہا ککڑ کا اس حوالے سے مزید بتانا تھا کہ ان گانوں کو تیار کرنے کا بنیادی اور اصل مقصد سامعین کو محظوظ کرنا اور انہیں رقص کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ کچھ افراد سوشل میڈیا پر ان گانوں کے مخصوص بول اور انداز کا مذاق اڑاتے ہیں، لیکن یہی گانے بعد میں مختلف تقریبات، محفلوں اور پارٹیوں میں بھرپور طریقے سے بجائے جاتے ہیں۔
گلوکارہ نے اس عمل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ناقدین ایک طرف تو ان گانوں پر اعتراض کرتے ہیں اور ان پر سخت تنقید کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف انہی گانوں کی مدد سے سوشل میڈیا پر مختلف ویڈیوز بنا کر لاکھوں کی تعداد میں ویوز بھی حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ گانا ریلیز ہوتے ہی تنقید کا طوفان امڈ آئے گا، مگر وہ یہ بھی جانتی ہیں کہ عام لوگ اس موسیقی پر جھومنا اور لطف اندوز ہونا پسند کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ نیہا ککڑ کو حال ہی میں دسمبر کے مہینے میں ریلیز ہونے والے اپنے ایک متنازع گانے ’کینڈی شاپ‘ کے بعد بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس گانے کو انہوں نے اپنے بھائی اور ساتھی فنکار ٹونی ککڑ کے ساتھ مل کر تیار کیا تھا اور خود اس میں اپنی آواز کا جادو جگایا تھا، جسے شائقین کی طرف سے ملی جلی آراء ملی تھیں۔
مذکورہ گانے کے ریلیز ہونے کے بعد بعض سامعین کی جانب سے اس کے بول کو انتہائی نامناسب اور غیر شائستہ قرار دیا گیا تھا، جبکہ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے ان پر کے پاپ موسیقی کے انداز اور اپنی ظاهری وضع قطع کی نقل کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ اس کے باوجود نیہا ککڑ بھارت کی ان چند نامور گلوکاروں میں شامل ہیں جنہیں سوشل میڈیا پر بے پناہ اور دنیا بھر میں مقبولیت حاصل ہے۔
انسٹاگرام پر بھارتی گلوکارہ کے فالوورز کی تعداد سات کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے، جو ان کی سوشل میڈیا پر غیر معمولی شہرت اور مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ شوبز کے حلقوں میں ان کے چاہنے والے دنیا بھر کے مختلف خطوں میں موجود ہیں، جو ان کے نئے پروجیکٹس کا شدت سے انتظار کرتے ہیں اور ان کے ہر نئے گانے کو سراہتے ہیں۔
تنقید اور پذیرائی کے اس ملے جلے اور دلچسپ ماحول کے باوجود نیہا ککڑ اپنے فنی سفر کو پوری لگن اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ اپنے مداحوں کے لیے نت نئے گانے پیش کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک حقیقی فنکار کا بنیادی اور فرض اولین اپنے سامعین کو بہترین تفریح فراہم کرنا ہے، خواہ اس کے لیے انہیں کسی بھی قسم کے چیلنجز یا سوشل میڈیا پر کی جانے والی تنقید کا سامنا کیوں نہ کرناپڑے۔
بھارتی شوبز انڈسٹری میں نیہا ککڑ کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی محنت کے بل بوتے پر موسیقی کی دنیا میں ایک نمایاں مقام بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران کئی سپر ہٹ گانے گائے ہیں جنہوں نے باکس آفس اور میوزک چارٹس پر دھوم مچائی ہے، اور ان کے گانے اکثر نوجوان نسل میں بہت زیادہ مقبول ہوتے ہیں۔
گلوکارہ کا یہ انٹرویو سوشل میڈیا پر کافی زیر بحث رہا ہے جہاں مداح اور ناقدین دونوں ہی ان کے اس بیان پر تبصرے کر رہے ہیں۔ جہاں کچھ لوگ ان کی اس سوچ سے اختلاف کر رہے ہیں، وہیں ان کے مداح ان کی اس ظرافت اور حقیقت پسندانہ رویے کو سراہ رہے ہیں کہ وہ تنقید سے گھبرانے کے بجائے اپنے کام پر پوری توجہ مرکوز رکھتی ہیں۔
موسیقی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں سوشل میڈیا پر ویوز اور ٹرینڈز حاصل کرنے کے لیے اکثر فنکار اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں، لیکن نیہا ککڑ نے خود یہ اعتراف کر کے اس بحث کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر سامعین پارٹیوں میں گانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو چھوٹی مووٹی تنقید اتنی زیادہ معنی نہیں رکھتی جتنی کہ لوگوں کی تفریح۔
نیہا ککڑ اور ٹونی ککڑ کی جوڑی اس سے پہلے بھی کئی بار ایسے گانے سامنے لا چکی ہے جو اپنی شاعری یا دھن کی وجہ سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتے ہیں۔ ان گانوں پر بننے والی مختصر ویڈیوز اور ریلز لاکھوں کی تعداد میں شیئر کی جاتی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ منفی یا مثبت دونوں صورتوں میں یہ مواد لوگوں کی توجہ کھینچنے میں کامیاب رہتا ہے۔
یہ تمام صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آج کے دور میں ڈیجیٹل میڈیا پر کامیابی کے پیمانے کس حد تک بدل چکے ہیں، جہاں تنقید اور تعریف دونوں ہی کسی بھی پراجیکٹ کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ نیہا ککڑ کا یہ بیان اسی حقیقت کی ایک واضع اور سچی تصویر پیش کرتا ہے جو انہوں نے اپنے طویل تجربے کی روشنی میں بیان کی ہے۔





اپنی رائے دیں