مواد پر جائیں
منگل، 20 اکتوبر 2026 9 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:17
بریکنگ
قلات اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 4 دہشتگرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدآسٹریلیا: وفاقی رکن پارلیمنٹ گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمی، حالت تشویشناکدہشتگردی کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہیے: نواز شریفکراچی: سائٹ ایریا میں گارمنٹس فیکٹری کے گودام میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھیسوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد کا معاملہ، اقرار الحسن عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقللاہور: مزنگ اڈا میں گیس سلنڈر لیک ہونے سے آگ بھڑک اٹھی، 2 افراد زخمیلاہور: گیس لیکیج سے آگ لگنے کے باعث 2 افراد زخمی، مختلف واقعات میں 4 جاں بحقحرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ڈی جی آئی ایس پی آرقصور: بجلی چوری پکڑنے پر لیسکو ٹیم پر مسلح افراد کا حملہ، مقدمہ درجمشرق وسطیٰ میں فوجی تصادم پر مکہ الائنس کا اجتماعی ڈیٹرنس حرکت میں آئے گا: ڈی جی آئی ایس پی آربلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدملتان میں گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق نوآموز الیکٹریشن کا معاملہ، ملزم توقیر کا بیان سامنے آگیاورلڈ فوڈ پروگرام نے فنڈز کی کمی پر غزہ میں امداد نصف کر دیروزانہ پھلوں کا استعمال ڈپریشن اور انزائٹی کا خطرہ کم کرتا ہےکراچی میں نوجوان گلوکارہ ایمن زارا کی پہلی سولو پرفارمنسغزہ کیلیے عالمی فورس کی تیاری، امریکی قیادت میں مراکش کے 500 اہلکاروں کی خصوصی ٹریننگایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، تمام ریکارڈ ٹوٹ گئےحکومتی قرضوں میں روزانہ اضافے کی خبر نامکمل اور گمراہ کن ہے: وزارتِ خزانہحکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیاپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان
صحت

روزانہ پھلوں کا استعمال ڈپریشن اور انزائٹی کا خطرہ کم کرتا ہے

آسٹریلیا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق کے مطابق روزانہ پھل کھانے سے ذہنی مسائل سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔

روزانہ پھلوں کا استعمال ڈپریشن اور انزائٹی کا خطرہ کم کرتا ہے

روزمرہ کی خوراک میں پھلوں کا باقاعدہ استعمال نہ صرف جسمانی صحت کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ انسانی دماغی صحت کو درست رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین صحت اور طبی محققین طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ متوازن اور صحت بخش غذا کا انتخاب انسان کی مجموعی زندگی پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس حوالے سے ایک نئی طبی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر پھلوں کا استعمال ڈپریشن اور انزائٹی جیسے عارضوں سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی کی یونیورسٹی میں کی جانے والی اس تحقیق کے دوران ساڑھے 6 ہزار سے زائد بچوں اور نوجوانوں کو طویل عرصے تک مشاہدے کے تحت رکھا گیا۔ تحقیق کے دوران ماہرین نے ان افراد کی کھانے پینے کی عادات اور ان کے ذہنی رجحانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ خوراک کا انسانی دماغ پر کس قسم کا اثر ہوتا ہے۔ اس مطالعے میں شامل افراد کو 3 سال تک تحقیق کا حصہ بنائے رکھا گیا تاکہ نتائج کو حتمی اور مستند بنایا جا سکے اور درست اعداد و شمار سامنے آ سکیں۔

تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ جو افراد روزانہ کی بنیاد پر کسی بھی پھل کا اضافی مقدار میں استعمال کرتے ہیں، ان میں ڈپریشن کی علامات سے متاثر ہونے کا خطرہ 13 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔ پھلوں میں موجود قدرتی اجزا اور وٹامن انسانی دماغ کے خلیات کو تقویت دیتے ہیں اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قدرتی غذاؤں کا استعمال انسان کو ذہنی سکون اور توازن فراہم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

اسی طرح تحقیق کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ روزانہ پھل کھانے سے انزائٹی ڈس آرڈرز کی علامات سے متاثر ہونے کا خطرہ 7 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ نوجوان نسل میں آج کل بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ اور بے چینی کی کیفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نتائج انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غذا میں پھلوں کی شمولیت سے نوجوانوں کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں خاطر خواہ مدد مل سکتی ہے اور وہ بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے الٹرا پراسیس غذاؤں اور میٹھے مشروبات کے منفی اثرات کا بھی احاطہ کیا جو آج کل کی غذا کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں۔ جو افراد اکثر الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال کرتے ہیں، ان میں ایسے دماغی نقصان کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جو فالج کا باعث بنتا ہے۔ اس کے علاوہ میٹھے مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس کے زیادہ استعمال سے ڈپریشن اور انزائٹی سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین نے یہ بات بھی نوٹ کی کہ یہ خطرہ لڑکوں میں زیادہ مضبوط نظر آیا، خاص طور پر انزائٹی کا خطرہ زیادہ بڑھتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خوراک کا انتخاب نہ صرف جسمانی بلکہ صنف کی بنیاد پر بھی ذہنی صحت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ناقص خوراک اور جنک فوڈ کا کثرت سے استعمال نوجوانوں میں دماغی امراض کی راہ ہموار کرتا ہے جس سے بچنے کی اشد ضرورت ہے۔

محققین نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ایک سیب کھانے سے ڈپریشن کی روک تھام ہو جاتی ہے یا سافٹ ڈرنکس انزائٹی کا باعث بنتی ہیں، دماغی صحت اس سے زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ دماغی صحت پر کئی اندرونی اور بیرونی عوامل اثرانداز ہوتے ہیں جن میں ماحول، طرز زندگی اور جینیاتی عوامل بھی شامل ہیں۔ اس کے باوجود ہم جو کچھ کھاتے ہیں وہ زندگی کا ایک حصہ ہوتا ہے اور دماغی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے، تو یہ نتائج بہت اہم ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تازہ ترین تحقیقات کے نتائج نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے دماغی امراض کی روک تھام میں نہایت معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے یہ ضروری ہے کہ جوان افراد میں دماغی امراض کی روک تھام میں مدد ملے جس کے لیے ضروری ہے کہ صحت کے لیے مفید غذاؤں کو رسائی کو زیادہ آسان بنانا چاہیے۔ حکومتی اداروں اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو چاہیے کہ وہ ایسی پالیسیاں مرتب کریں جن کے ذریعے نوجوانوں کو نقصان دہ غذاؤں سے دور رکھا جا سکے۔

جدید دور میں جب کہ فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، طبی ماہرین کی یہ تحقیق ہمیں دوبارہ اپنی غذائی عادات کا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے۔ ماہرین زور دیتے ہیں کہ اگر ہم ایک صحت مند اور تندرست معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی خوراک میں پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھانا ہوگا۔ اس طرح نہ صرف جسمانی بیماریاں دور رہیں گی بلکہ ایک صحت مند ذہن کی آبیاری بھی ممکن ہو سکے گی۔

صحت مند غذا کے حوالے سے یہ بھی کہاوت مشہور ہے کہ ایسا کہا جاتا ہے کہ ایک سیب روزانہ ڈاکٹر کو آپ سے دور رکھے۔ ایسا کس حد تک درست ہے، یہ ایک طویل بحث ہے مگر ایک سیب یا کسی بھی پھل کو روزانہ کھانا ڈپریشن اور انزائٹی کو ضرور آپ سے دور رکھ سکتا ہے۔ سڈنی یونیورسٹی کی تحقیق میں ساڑھے 6 ہزار سے زائد بچوں اور نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا۔

تحقیق کاروں کا مزید کہنا تھا کہ الٹرا پراسیس غذائیں نہ صرف جسمانی بلکہ دماغی فالج کا خطرہ بھی بڑھاتی ہیں جو کہ ایک سنگین طبی مسئلہ ہے۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ سافٹ ڈرنکس اور میٹھے مشروبات کے بے دریغ استعمال سے اجتناب برتا جائے۔ یہ مشروبات وقتی لذت تو فراہم کرتے ہیں لیکن طویل مدت میں صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

اس مطالعے کے دوران محققین نے بچوں اور نوجوانوں کی غذائی عادات کا گہرا مطالعہ کیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کون سے اجزا ان کے لیے زیادہ مفید ہیں۔ نتائج سے واضح ہوا کہ قدرتی پھلوں کا استعمال ذہن کو تروتازہ رکھتا ہے اور مختلف ذہنی عارضوں سے بچاؤ میں ڈھال کا کام کرتا ہے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی خوراک میں پھلوں کی مقدار کو بڑھائیں تاکہ وہ ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہوں۔

آخر میں محققین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بھی اس موضوع پر مزید تحقیق جاری رکھیں گے تاکہ ذہنی صحت کے نئے رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکے۔ دماغی امراض آج کے دور میں ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے غذائی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ درست غذائی انتخاب سے نہ صرف صحت مند جسم بلکہ ایک مضبوط اور توانا دماغ کا حصول بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

صحت کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں