بنگلہ دیش میں خسرے کی وبا نے سنگین نوعیت اختیار کر لی ہے اور اس موذی مرض کے باعث ملک بھر میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد بارہ سو سے زائد ہو چکی ہے۔ صحت کے حکام کے مطابق صورتحال تشویشناک ہے اور متاثرہ بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات جاری ہیں۔
سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پیر کے روز خسرہ سے منسلک اموات کی مجموعی تعداد بڑھ کر یکہزار دو سو ایک تک پہنچ گئی ہے۔ اس خطرناک مرض کی علامات والے مریضوں کی آمد کا سلسلہ مسلسل جاری ہے جس سے ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
وزارتِ صحت کے ماتحت کام کرنے والے ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کا کہنا ہے کہ کل اموات میں سے ایک سو چار کیسز ایسے ہیں جن میں باضابطہ طور پر خسرہ کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ محکمہ صحت کے حکام نے ملک بھر میں ایک ہزار تین سو سات نئے مشتبہ کیسز کی بھی اطلاع دی ہے۔
حکام کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں سے اکیس سو سے زائد خسرہ کے تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ نئے مشتبہ کیسز کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ماہرینِ صحت اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور طبی عملہ دن رات متاثرہ بچوں کے علاج میں مصروف ہے۔
رواں سال مارچ کے وسط میں اس مہلک وبا کے پہلی بار سامنے آنے کے بعد سے اب تک ملک بھر میں مشتبہ کیسز کی تعداد دو لاکھ چودہ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں کیسز سامنے آنے سے طبی نظام کو شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
محکمہ صحت کی رپورٹس کے مطابق اس دوران تیئیس ہزار سے زائد کیسز میں خسرہ کے مرض کی مکمل تشخیص اور تصدیق ہو چکی ہے۔ ملک کے طول و عرض میں پھیلنے والی اس وبا کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی تعاون اور مقامی وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو بنگلہ دیش میں روایتی طور پر خسرہ کے خلاف ایک مؤثر اجتماعی قوتِ مدافعت یا ہرڈ امیونٹی موجود رہی ہے۔ اس قوتِ مدافعت کی بدولت ماضی میں اس قسم کی خطرناک وبائی صورتحال سے کامیابی کے ساتھ نمٹا جاتا رہا ہے۔
تاہم طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ چند برسوں کے دوران بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی غفلت یا کوریج میں کمی کے نتیجے میں یہ اجتماعی قوتِ مدافعت کمزور ہو کر ختم ہو گئی ہے۔
ویکسینیشن کی شرح گرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ وائرس نے دوبارہ سر اٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے بچوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حکومت اور بین الاقوامی اداروں نے اس صورتحال پر سخت نوٹس لیتے ہوئے حفاظتی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
بحرانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے رواں سال اپریل سے لے کر اب تک وزارتِ صحت نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ معمول کی ویکسینیشن کے علاوہ ملک بھر میں خصوصی مہمات کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔
ان خصوصی پروگراموں کے ذریعے اب تک دو کروڑ سے زائد بچوں کو خسرے سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ جلد از جلد زیادہ سے زیادہ بچوں کو اس ویکسین سے کور کیا جائے تاکہ وبا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
عالمی سطح پر صحت کے نگران ادارے بھی بنگلہ دیشی حکام کے ساتھ اس معاملے میں تعاون کر رہے ہیں۔ والدین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی صحت کی حفاظت کے لیے ویکسینیشن کورس کو لازمی مکمل کروائیں۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ جب تک تمام بچوں کو حفاظتی ٹیکے نہیں لگائے جاتے، اس وبا پر مکمل قابو پانا مشکل ہوگا۔ اس مقصد کے لیے دیہی اور شہری علاقوں میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین فراہم کر رہی ہیں۔
اس تمام صورتحال نے ایک بار پھر بچوں کی صحت اور حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر والدین نے غفلت برتی تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، اس لیے حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔





اپنی رائے دیں