نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ڈیجیٹل مالیاتی فراڈ کے خلاف ایک انتہائی بڑی اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے دو سو سے زائد چینی باشندوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں شہر کے مختلف سیکٹرز میں عمل میں لائی گئیں جہاں یہ غیر ملکی عناصر مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔
ترجمان این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک ہی دن میں اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں درجنوں مقامات پر چھاپے مارے اور مالیاتی فراڈ کے اس بڑے نیٹ ورک کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عملی مظاہرہ کیا۔ اس جامع آپریشن کے دوران سکیورٹی اداروں نے انتہائی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کو فرار ہونے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا۔
بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس طوفانی کریک ڈاؤن کے دوران سب سے بڑی اور اہم کارروائی اسلام آباد کے صنعتی علاقے آئی نائن سیکٹر میں کی گئی جہاں ملزمان مبینہ طور پر اپنا ایک بڑا مرکز چلا رہے تھے۔ اس مقام کی نشاندہی کے بعد تفتیشی ٹیموں نے دارالحکومت کے دیگر سیکٹرز میں بھی فوری چھاپے مارے جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر دو سو چینی باشندوں کو دبوچ لیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے یہ تمام غیر ملکی باشندے بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل مالیاتی فراڈ کی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں اور ابتدائی شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک منظم گروہ کی شکل میں یہ نیٹ ورک چلا رہے تھے۔ ان غیر ملکیوں کی موجودگی اور اتنے بڑے پیمانے پر فراڈ کی سرگرمیوں نے سکیورٹی اداروں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تھی۔
چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران این سی سی آئی اے کی ٹیموں نے ملزمان کے قبضے سے جدید نوعیت کا الیکٹرانک اور ڈیجیٹل سامان بھی اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ برآمد کی جانے والی ان اشیاء میں متعدد قیمتی لیپ ٹاپس، جدید ڈیجیٹل سرورز اور کمپیوٹر ہارڈ ڈسکس کی بڑی تعداد شامل ہے جنہیں مبینہ طور پر مالیاتی فراڈ کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
تفتیشی ماہرین اب ان تمام برآمد شدہ الیکٹرانک آلات کا گہرائی سے فرانزک تجزیہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ اس وسیع مالیاتی فراڈ کے نیٹ ورک کی مزید تہیں ادھیڑی جا سکیں۔ فرانزک رپورٹس کی روشنی میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ اس نیٹ ورک کے تانے بانے کہاں تک پھیلے ہوئے ہیں اور اس میں کون سے دیگر مقامی یا غیر ملکی عناصر ملوث ہیں۔
حالیہ چند برسوں کے دوران ملک بھر میں ڈیجیٹل جرائم، آن لائن فراڈ اور اس قسم کی دیگر جعل سازی کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں نے اپنی کارروائیوں میں واضح تیزی پیدا کر دی ہے۔ این سی سی آئی اے کو ملک میں سائبر کرائم کے مکمل تدارک اور ڈیجیٹل معیشت کے تحفظ کو یقینی بنانے کی انتہائی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل فراڈ کے اس طرح کے منظم نیٹ ورک نہ صرف ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ عام شہریوں کی جمع پونجی کو بھی غیر محفوظ بناتے ہیں۔ اس نوعیت کے بڑے آپریشنز سے اس طرح کے جرائم میں ملوث عناصر کی حوصلہ شکنی ہوگی اور سائبر کرائم کے خلاف جاری قومی مہم کو مزید تقویت اور استحکام ملے گا۔
گرفتار کیے گئے تمام چینی باشندوں سے اس وقت نامعلوم محفوظ مقام پر سخت تفتیش جاری ہے جہاں ان سے اس وسیع نیٹ ورک کے دیگر کارندوں، سہولت کاروں اور ماسمائنڈز کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ تفتیش کے دوران حاصل ہونے والی اہم معلومات کی روشنی میں مزید گرفتاریوں کا بھی قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تفتیشی کارروائی مکمل ہونے اور ابتدائی قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد تمام نامزد ملزمان کو مجاز عدالتوں میں پیش کیا جائے گا جہاں قانون کے مطابق ان کے خلاف باضابطہ مقدمات چلائے جائیں گے۔ عدالت سے ان ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں انجام دی جانے والی اس بڑی کارروائی کو سکیورٹی اور تحقیقاتی حلقوں میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جسے عوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بار پھر عزم ظاہر کیا ہے کہ ملک بھر میں سائبر کرائم اور ڈیجیٹل فراڈ میں ملوث کسی بھی عنصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔
حکومت پاکستان اور متعلقہ ادارے ملک میں غیر ملکیوں کی قانونی حیثیت اور ان کی کاروباری سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس طرح کے غیر قانونی نیٹ ورکس کا قبل از وقت سدباب کیا جا سکے۔ اس حوالے سے انٹیلی جنس اداروں اور سائبر کرائم ایجنسیز کے درمیان قریبی اور موثر تعاون جاری ہے۔
عوام الناس سے بھی بارہا یہ اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک آن لائن سرگرمی یا مالیاتی فراڈ کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ اداروں کو مطلع کریں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ این سی سی آئی اے کا یہ تازہ ترین آپریشن اس عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔





اپنی رائے دیں