گلگت بلتستان کے ضلع دیامر اور چلاس کے بالائی علاقوں میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی برفباری کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے باعث بلند و بالا پہاڑی سلسلے برف کی سفید چادر میں لپٹ گئے ہیں۔
برفباری کے نتیجے میں سیاحتی مقامات بابوسر ٹاپ، بٹو گاہ ٹاپ اور نانگا پربت کے اطراف میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر گیا ہے، جس سے سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر بابوسر ناران شاہراہ کو ٹریفک کے لیے عارضی طور پر بند کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
گزشتہ رات سے جاری برفباری کے باعث شاہراہ پر پھسلن بڑھ گئی ہے، جس کی وجہ سے انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ موسم کی صورتحال بہتر ہونے تک اس اہم گزرگاہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رکھا جائے۔
دیامر کے نشیبی علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس سے موسم تو خوشگوار ہو گیا ہے تاہم سردی کی لہر نے مقامی شہریوں کو گرم ملبوسات نکالنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور مقامی پولیس نے سیاحوں اور مقامی مسافروں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ موجودہ موسمی صورتحال کے پیش نظر پہاڑی علاقوں کا غیر ضروری سفر کرنے سے مکمل گریز کریں۔
حکام کا کہنا ہے کہ شاہراہوں کی بحالی کا کام موسم کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد ہی شروع کیا جائے گا تاکہ ٹریفک کی روانی کو محفوظ بنایا جا سکے اور کسی قسم کا حادثہ پیش نہ آئے۔
سفر کرنے کے خواہشمند افراد کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی شاہراہ پر نکلنے سے قبل ضلعی انتظامیہ کے کنٹرول روم سے راستوں کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں معلومات ضرور حاصل کریں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شمالی علاقوں میں مزید چند روز تک موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث بالائی علاقوں میں درجہ حرارت کے مزید گرنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ بابوسر ٹاپ سیاحوں کے لیے ایک اہم اور خوبصورت گزرگاہ ہے، تاہم موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی یہاں برفباری کے باعث اکثر راستے بند کر دیے جاتے ہیں تاکہ جان و مال کا تحفظ ہو۔
مقامی آبادی نے بھی سردی سے بچاؤ کے لیے اپنے معمولات زندگی میں تبدیلیاں کر لی ہیں اور موسم کی شدت کو دیکھتے ہوئے ایندھن اور دیگر ضروری اشیاء کا ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے۔
انتظامیہ نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں امدادی کارروائیاں بروقت مکمل کی جا سکیں اور شہریوں کو سہولت ملے۔
شہریوں سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ پہاڑی علاقوں میں سفر کے دوران گاڑیوں میں اینٹی سکڈ چینز کا استعمال یقینی بنائیں اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔





اپنی رائے دیں