وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 21 اکتوبر سے ہوگا۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 88 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 382 روپے 2 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 53 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 389 روپے 80 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ ردوبدل عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور ملکی معاشی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں کا تعین باقاعدہ فارمولے کے تحت کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہر پندرہ دن بعد کیا جاتا ہے تاکہ عالمی منڈی کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے صارفین کو ریلیف یا قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کی جا سکے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ قیمتوں کا تعین شفاف طریقے سے کیا جاتا ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی ردوبدل کا اثر براہ راست ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ تاہم حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پٹرول پمپس پر بھی نئی قیمتوں کے مطابق فروخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قیمتوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔
عوامی حلقوں کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کی صورت میں مقامی سطح پر بھی ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہوتی ہے۔
پاکستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا اثر براہ راست ملکی مارکیٹ پر پڑتا ہے۔ ڈالر کی قدر بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں میں اضافے کا باضابطہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ نئی قیمتوں کے مطابق ہی خریداری کریں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس تبدیلی کے بعد اب ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور دیگر اشیاء کی قیمتوں پر اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں پر نظر رکھنے کے لیے متعلقہ ادارے متحرک ہیں۔
مستقبل میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا انحصار عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے رجحان پر ہوگا۔ حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔





اپنی رائے دیں