پنجاب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے نومولود بچوں کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم طبی انتباہ جاری کیا ہے۔ اتھارٹی نے میڈیکل ڈسپوزایبل امبلیکل کورڈ کلیمپ کے ایک مخصوص بیچ کی فروخت اور استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ طبی آلہ، جسے عام زبان میں بچے کی نال پر لگائی جانے والی چٹکی یا کلپ بھی کہا جاتا ہے، پیدائش کے فوراً بعد نال کاٹنے کے عمل میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد خون کے بہاؤ کو روکنا اور انفیکشن سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ الرٹ میں 'سٹیریل ڈسپوزایبل سیکینا امبلیکل کورڈ کلیمپ' (Sterile Disposable Cikina Umbilical Cord Clamp) کے بیچ نمبر 25495 کو غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ اس بیچ کی میعاد مارچ 2031 تک درج تھی۔
ادارے نے تمام ڈیلرز، ہول سیلرز اور ریٹیلرز کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ مذکورہ بیچ کی مصنوعات کی فروخت فوری طور پر روک دیں۔ اس کے ساتھ ہی ان تمام اسٹاکس کو مارکیٹ سے واپس کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ جن بھی متعلقہ اداروں کے پاس یہ مصنوعات موجود ہیں، انہیں فوری طور پر اپنے متعلقہ علاقے کے ڈرگ انسپکٹرز کو رپورٹ کرنا ہوگا۔ ڈرگ انسپکٹرز کو انوینٹری اور کھپت کے ریکارڈ کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
عوام الناس اور خاص طور پر والدین کے لیے جاری کردہ خصوصی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ اس مخصوص بیچ کے کلیمپ کا استعمال ہرگز نہ کریں۔ اس طبی آلے کے استعمال سے بچوں کی صحت کو ممکنہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق نال کا کلیمپ ایک انتہائی حساس طبی آلہ ہے جو صرف ایک بار استعمال کے لیے ہوتا ہے۔ جب بچے کی نال سوکھ کر خود بخود گر جاتی ہے، تو یہ کلیمپ بھی الگ ہو جاتا ہے، اس لیے اس کا معیار انتہائی اہم ہے۔
پنجاب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا یہ اقدام بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ایک احتیاطی قدم ہے۔ اتھارٹی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ مارکیٹ میں موجود تمام طبی آلات بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں اور ان سے کسی کو نقصان نہ پہنچے۔
حکام نے متعلقہ کاروباری افراد کو تنبیہ کی ہے کہ وہ ہدایات پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ کسی بھی قسم کی غفلت یا ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں ڈرگ قوانین کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ اگر انہیں کسی بھی میڈیکل اسٹور یا ہسپتال میں اس مخصوص بیچ کی مصنوعات نظر آئیں تو وہ فوری طور پر متعلقہ حکام کو مطلع کریں۔ عوامی آگاہی سے ہی ایسے ممکنہ خطرات کو بروقت روکا جا سکتا ہے۔
اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ یہ الرٹ پنجاب بھر کے تمام ڈرگ انسپکٹرز کو بھجوا دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی نگرانی میں اس بیچ کی واپسی کے عمل کو مکمل کر سکیں۔ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کی گنجائش نہیں ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ مریضوں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے۔ اس طرح کے الرٹس کا مقصد طبی مصنوعات کے معیار کو برقرار رکھنا اور کسی بھی ممکنہ طبی پیچیدگی سے بچنا ہے جو ناقص آلات کے استعمال سے پیدا ہو سکتی ہے۔
والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے طبی معاملات میں صرف مستند اور تصدیق شدہ مصنوعات کا استعمال کریں۔ کسی بھی طبی آلے کے بارے میں شک ہونے کی صورت میں اپنے معالج یا قریبی ڈرگ انسپکٹر سے رابطہ کریں۔





اپنی رائے دیں