سندھ حکومت نے صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے مزید مواقع فراہم کرنے اور پبلک سروس کمیشن کے نظام کو مزید شفاف اور بہتر بنانے کے لیے اہم نوعیت کے اصلاحاتی فیصلوں کی منظوری دی ہے جس سے امیدواروں کو بڑی سہولت ملے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں صوبائی کابینہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے انتظامی اور تعلیمی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران صوبائی کابینہ نے سندھ پبلک سروس کمیشن میں جامع اصلاحات کی منظوری دی جن کا مقصد نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانا اور امتحانی عمل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
ترجمان سندھ حکومت کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مشترکہ مسابقتی امتحان یعنی سی سی ای کے لیے عمر کی بالائی حد کو تیس سال سے بڑھا کر تینتیس سال کر دیا جائے گا۔
عمر کی حد میں اس اضافے سے ان تمام امیدواروں کو امتحان میں شرکت کا موقع مل سکے گا جو مقررہ عمر کی وجہ سے پہلے اس عمل سے باہر ہو جاتے تھے اور اس فیصلے کو طلبہ کی طرف سے سراہا جا رہا ہے۔
عمر کی حد کے علاوہ صوبائی کابینہ نے سی سی ای امتحان میں شرکت کے مواقع کی تعداد کو بھی تین سے بڑھا کر پانچ کرنے کی منظوری دی ہے جس سے امیدواروں کو تیاری اور کامیابی کے لیے مزید مواقع میسر آئیں گے۔
امتحان میں شرکت کے مواقع بڑھنے سے نوجوانوں میں مقابلے کا رجحان مزید بہتر ہوگا اور وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکیں گے جبکہ انہیں ناکامی کی صورت میں دوبارہ کوشش کرنے کا موقع بھی ملے گا۔
اجلاس میں امتحان کے معیار اور پاسنگ مارکس کے حوالے سے بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ امیدوار کامیاب ہو کر سرکاری خدمات کا حصہ بن سکیں۔
ترجمان نے بتایا کہ کابینہ نے مشترکہ مسابقتی امتحان دو ہزار چھبیس کے لیے کامیابی کا کم از کم معیار چالیس فیصد سے کم کر کے تینتیس فیصد کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس فیصلے کا بنیادی مقصد صوبے کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کو مساوی مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بھی سول سروس میں آ کر اپنی خدمات انجام دے سکیں۔
معیار میں اس نرمی سے میرٹ اور مسابقت کا عمل متاثر کیے بغیر امیدواروں کے لیے کامیابی کے امکانات میں اضافہ ہوگا اور سرکاری محکموں میں خالی اسامیاں بروقت پر کی جا سکیں گی۔
سندھ کابینہ نے امتحان کے طریقہ کار کو جدید بنانے کے لیے بھی ایک اہم قدم اٹھایا ہے جس کے تحت اب ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔
فیصلے کے مطابق ایک پرچے پر مشتمل امتحانات کے لیے کمپیوٹرائزڈ ٹیسٹنگ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے امتحانی نتائج میں شفافیت اور تیزی آئے گی۔
کمپیوٹرائزڈ نظام کے نفاذ سے کاپی کلچر اور انسانی مداخلت کا عنصر کم ہوگا اور قابلیت کی بنیاد پر شفاف انداز میں امیدواروں کا انتخاب ممکن ہو سکے گا۔
حکومت سندھ کا یہ اقدام صوبے میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے کھولنے اور سرکاری محکموں میں میرٹ کی بالادستی قائم کرنے کی سمت میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ ان اصلاحات کے نفاذ سے سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت ہونے والے امتحانات کا معیار مزید بلند ہوگا اور صوبے کو بہترین افسران مل سکیں گے۔





اپنی رائے دیں