وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں دانش اسکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک بھر میں غریب اور مستحق بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وسائل کی کمی لاکھوں ذہین بچوں کی صلاحیتوں کے اظہار اور آگے بڑھنے میں سب سے بڑی دیوار بنتی ہے، جسے گرانے کے لیے حکومت تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لا رہی ہے۔
وزیراعظم نے وضاحت کی کہ دانش اسکولوں کے قیام کا بنیادی مقصد پس ماندہ اور نادار طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں کے ہم پلہ بلکہ ان سے بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس اقدام سے غریب گھرانوں کے بچے بھی سائنس، جدید ٹیکنالوجی اور عصری علوم میں مہارت حاصل کر کے قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں گے۔
حکومت کی طرف سے اس تعلیمی وژن کو وسعت دیتے ہوئے ملک کے مختلف علاقوں میں ستائیس دانش اسکول زیر تعمیرا لائے گئے ہیں، جن کا دائرہ کار بتدریج پورے ملک تک پھیلایا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ایک ایسے منصفانہ معاشرے کی بنیاد رکھنا ہے جہاں کسی بھی بچے کا روشن مستقبل اس کے والدین کی مالی حیثیت کا محتاج نہ ہو۔
ماہرین تعلیم اور تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا تعلیمی بحران صرف عمارتوں کی کمی تک محدود نہیں بلکہ سرکاری اسکولوں کی خستہ حالی، بنیادی سہولتوں کا فقدان اور نصاب کا فرسودہ ہونا بھی اس کی نمایاں علامات ہیں۔ دیہی علاقوں میں پینے کے صاف پانی، بجلی اور اسکولوں کی چار دیواری جیسی بنیادی ضروریات کا نہ ہونا تعلیمی عمل کو شدید متاثر کرتا ہے۔
خصوصاً بچیوں کی تعلیم کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی اور خواتین اساتذہ کی دستیابی وہ دیرینہ مسائل ہیں جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بڑے شہروں اور دیہات کے تعلیمی معیار میں بڑھتا ہوا فرق سماجی مساوات کو نقصان پہنچا رہا ہے، جس کی وجہ سے تعلیم طبقاتی تقسیم کا سبب بننے لگی ہے۔
صرف بجٹ میں اضافہ کر دینا کافی نہیں ہے بلکہ مختص کردہ فنڈز کا شفاف اور درست استعمال یقینی بنانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اسکولوں کی تعمیر کے ساتھ وہاں قابل اساتذہ کی تعیناتی، معیاری کتب کی فراہمی اور طلبہ کی عملی تربیت کے بغیر مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن نہیں۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو باہم مل کر ایک جامع اور مرحلہ وار مالیاتی منصوبہ بندی کرنا ہوگی جس میں پسماندہ اضلاع کو خصوصی ترجیح دی جائے۔ تمام تعلیمی اخراجات اور ترقیاتی منصوبوں کے نتائج عوام کے سامنے ایمانداری سے پیش کیے جائیں تاکہ نظام میں شفافیت اور جواب دہی کا عنصر برقرار رہے۔
ابتدائی تعلیم کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ کم سن بچے روانی سے پڑھنے، مفہوم سمجھنے اور بنیادی حساب کرنے کے قابل ہو سکیں۔ اسکولوں میں امتحانی نظام کو محض رٹا لگانے کی صلاحیت جانچنے تک محدود رکھنے کے بجائے طلبہ کی فکری اور استدلال کی صلاحیتوں کو پرکھنے والا بنایا جائے۔
جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے پاکستان کو مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی اور جدید زراعت جیسے اہم شعبوں میں تحقیق کو فروغ دینا ہوگا۔ جامعات اور صنعتوں کے مابین قریبی رابطہ کاری کو مضبوط کرنا لازمی ہے تاکہ تحقیقی مقالے لیبارٹریوں سے نکل کر عملی معیشت کی بہتری میں کام آ سکیں۔
تعلیمی اداروں میں سوال کرنے کے رجحان کو فروغ دینے کے بجائے رٹنے اور اسناد اکٹھی کرنے کی جو روش پروان چڑھ چکی ہے، اس سے نجات حاصل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ جب درس گاہیں قابلیت کے بجائے سفارش کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتی ہیں تو تعلیمی بحران ریاست کے تمام اداروں اور معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
پاکستان میں اعلیٰ ڈگریوں کے حصول کے باوجود نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اپنی صلاحیتوں کے مطابق روزگار حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہے۔ اس تضاد کو ختم کرنے کے لیے تعلیمی نظام کا بے لاگ تجزیہ کرکے ایسی اصلاحاتی حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی جو قومی وسائل کو حقیقی علمی ترقی میں تبدیل کر سکے۔
قومی سطح پر تعلیمی اصلاحات کی کامیابی کا دارومدار زبانی دعوؤں یا اجلاسوں کے بجائے عملی اقدامات اور زمینی تبدیلیوں پر ہوتا ہے۔ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور نصاب کی جدید خطوط پر استوار کاری کے بغیر قوموں کی فکری سمت اور معاشی استعداد کو درست راستے پر نہیں ڈالا جا سکتا۔
ملک کے روشن مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں سفارش اور اقربا پروری کی حوصله شکنی کی جائے اور میرٹ کی بالادستی کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے۔ نوجوان نسل کو ان کی صلاحیت اور محنت کے مطابق آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرنے سے ہی حقیقی قومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔





اپنی رائے دیں