ملک میں بجلی کے صارفین کے لیے آنے والا سال مالی بوجھ کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے سال 2027 کے لیے بجلی کی خریداری کی نئی قیمتوں کا تعین کرنے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کروا دی ہے۔
اس درخواست کے مطابق یکم جنوری 2027 سے بجلی کے نئے ٹیرف میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جس کے تحت فی یونٹ قیمت 27 روپے 30 پیسے سے تجاوز کر سکتی ہے۔ یہ پیش رفت ملک میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے ریفرنس کاسٹ کے تعین کا حصہ ہے۔
سی پی پی اے کی جانب سے نیپرا کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2027 کے دوران بجلی کی کل خریداری کی لاگت تقریباً 3 ہزار 439 ارب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو کہ ملکی معاشی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اس بھاری لاگت میں کیپسٹی چارجز کا حصہ نمایاں ہے جو کہ 19 سو 14 ارب روپے سے زائد بنتے ہیں۔ یہ چارجز بجلی کے نظام کو فعال رکھنے اور پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے ادا کیے جاتے ہیں جو صارفین کے بلوں پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔
مزید برآں، سال 2027 کے لیے بجلی کی فیول کاسٹ کا تخمینہ 12 سو ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آپریشن اور مینٹیننس کی مد میں 70 ارب روپے اور ٹرانسمیشن چارجز کی مد میں 248 ارب روپے سے زائد کی ادائیگی متوقع ہے۔
سی پی پی اے نے نیپرا اتھارٹی کے پاس چھ مختلف تجاویز جمع کرائی ہیں جن میں سے ایک آئیڈل کیس کے تحت بجلی کی خریداری کی قیمت 25 روپے 88 پیسے فی یونٹ تجویز کی گئی ہے۔ تاہم، حتمی فیصلہ نیپرا اتھارٹی کی جانب سے اوسط قیمت کے تعین کے بعد ہی ہوگا۔
نیپرا اس اہم معاملے پر باقاعدہ سماعت کا آغاز 2 نومبر کو کرے گا جس میں تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس سماعت کے دوران بجلی کی قیمتوں کے تعین کے لیے بنیادی لاگت اور دیگر تکنیکی امور پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔
یاد رہے کہ بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل ایک مستقل عمل ہے جو فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور دیگر معاشی اشاریوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی اگست کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے نرخوں میں ایک ماہ کے لیے اضافہ کیا گیا تھا۔
سی پی پی اے کی جانب سے ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے لیے بھی ایک الگ درخواست نیپرا میں زیر التواء ہے جس پر 29 اکتوبر کو سماعت متوقع ہے۔ اس طرح کے اقدامات کا مقصد بجلی کے شعبے کے مالیاتی توازن کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔
بجلی کے نرخوں میں اضافے کی یہ تجاویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ملک میں توانائی کی طلب اور رسد کا توازن برقرار رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کیپسٹی چارجز کا بوجھ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے اس حوالے سے طویل مدتی پالیسیاں بنانے پر غور کر رہے ہیں تاکہ صارفین پر پڑنے والے مالی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
نیپرا کی جانب سے حتمی ٹیرف کا اعلان سماعت کے بعد کیا جائے گا جس کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ یکم جنوری 2027 سے صارفین کو کتنی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ تب تک صارفین کی نظریں نیپرا کے فیصلے پر مرکوز ہیں۔
پاکستان میں بجلی کا شعبہ اپنی نوعیت کے چیلنجز سے دوچار ہے جن میں گردشی قرضے اور ترسیلی نظام کی بہتری جیسے مسائل شامل ہیں۔ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے بجلی کی قیمتوں کا تعین ایک پیچیدہ عمل سمجھا جاتا ہے۔





اپنی رائے دیں