ملک بھر میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں جاری اتار چڑھاؤ کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخوں میں تبدیلی کے اثرات براہ راست آٹے کی قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں، جس سے مارکیٹ میں قیمتوں کا تعین غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ کے سابق چیئرمین عبدالجنید کے مطابق اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 140 سے 141 روپے فی کلو تک دیکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فلور ملز کو بھی اوپن مارکیٹ سے گندم کی خریداری کے لیے 145 روپے فی کلو تک ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔
ملز کی سطح پر قیمتوں کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈھائی نمبر آٹے کا ایکس مل ریٹ 158 سے 160 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح فائن آٹے کی ایکس مل قیمت 170 سے 172 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔
مارکیٹ میں ریٹیلرز کی جانب سے فروخت کی جانے والی قیمتیں ایکس مل ریٹ سے مختلف ہیں۔ ریٹیل سطح پر ڈھائی نمبر آٹا 175 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ فائن آٹے کی قیمت 185 سے 190 روپے فی کلو تک وصول کی جا رہی ہے۔
عبدالجنید کا کہنا ہے کہ آٹے کی قیمتوں کا انحصار مکمل طور پر گندم کے نرخوں پر ہے۔ اگر اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں مزید کمی واقع ہوتی ہے تو فلور ملز بھی اپنی پیداوار کی قیمتوں میں فوری طور پر نظرثانی کریں گی۔
دوسری جانب آٹا چکی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری انیس شاہد نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹی چکی کا آٹا فی الحال 190 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق صاف گندم کی قیمتوں میں نمایاں کمی نہیں دیکھی گئی۔
انیس شاہد نے مزید وضاحت کی کہ جب تک صاف گندم کی قیمتوں میں استحکام یا کمی نہیں آتی، تب تک چکی کے آٹے کی قیمتوں میں کمی لانا ممکن نہیں ہوگا۔ چکی مالکان بھی گندم کی خریداری کے موجودہ نرخوں کے مطابق ہی آٹا فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔
حکومتی سطح پر گندم کی فراہمی اور مارکیٹ مانیٹرنگ کے حوالے سے بھی مختلف اقدامات زیر غور ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ گندم کی وافر دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ گندم کی فصل کی کٹائی اور ذخیرہ اندوزی کے رجحانات بھی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مارکیٹ میں سپلائی چین کو بہتر بنا کر قیمتوں میں مصنوعی اضافے کو روکا جا سکتا ہے، جس کے لیے انتظامیہ متحرک ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے سخت نگرانی کی جائے۔ ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ریٹیل سطح پر قیمتوں کی جانچ پڑتال کرے تاکہ عوام کو مقررہ نرخوں پر آٹا دستیاب ہو سکے۔
فلور ملز اور چکی مالکان دونوں کا موقف ہے کہ وہ مارکیٹ کے حالات کے مطابق قیمتوں کا تعین کرتے ہیں۔ گندم کی قیمتوں میں کمی ہی واحد راستہ ہے جس سے آٹے کی قیمتوں میں عام آدمی کی قوت خرید کے مطابق کمی لائی جا سکتی ہے۔
آنے والے دنوں میں گندم کی درآمد اور مقامی پیداوار کے ذخائر کی صورتحال قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گی۔ حکومت کی جانب سے گندم کے کوٹے اور ترسیل کے معاملات پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
مجموعی طور پر آٹے کی قیمتوں میں جاری یہ اتار چڑھاؤ صارفین کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ متعلقہ حکام اور ایسوسی ایشنز کے درمیان رابطے جاری ہیں تاکہ قیمتوں میں توازن قائم کیا جا سکے اور عوام کو سستا آٹا فراہم کیا جا سکے۔





اپنی رائے دیں