عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا سے متعلق اپنی تازہ ترین علاقائی رپورٹ میں پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کے حوالے سے اہم خدشات کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درآمدات میں متوقع اضافے اور ترسیلاتِ زر کی رفتار میں سستی کے باعث ملکی معیشت کو بیرونی محاذ پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان کے جاری کھاتے کا خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے ایک فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جو تقریباً 4.5 ارب ڈالر کے برابر ہے۔ یہ تخمینہ حکومت کے 2.5 ارب ڈالر کے سرکاری اندازے سے کافی زیادہ ہے، جس سے معاشی اہداف کے حصول میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مجموعی بیرونی مالیاتی ضروریات جی ڈی پی کے 22 سے 25 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، جو دیگر ہم پلہ ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ یہ صورتحال ملک کے لیے مختلف مالیاتی خطرات کا باعث بن سکتی ہے جن سے نمٹنے کے لیے محتاط حکمت عملی درکار ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے نے حکومت اور تجارتی بینکوں کے درمیان گہرے مالیاتی تعلق پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بینکوں کے مجموعی اثاثوں میں سرکاری قرضوں کا تناسب 63 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو ابھرتی ہوئی معیشتوں کی عمومی سطح سے کہیں زیادہ ہے۔
آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ حکومتی قرضوں میں اضافے سے متعلق خدشات کے نتیجے میں قرض لینے کی لاگت بنیادی تخمینوں سے بڑھ سکتی ہے۔ اس سے مالیاتی استحکام کے مسائل مزید سنگین ہونے کا اندیشہ ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں مجموعی مالیاتی ضروریات پہلے ہی بلند سطح پر ہیں۔
مہنگائی پر قابو پانے کے حوالے سے آئی ایم ایف نے مانیٹری پالیسی کو مزید سخت کرنے پر زور دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن ممالک میں مہنگائی ہدف سے زیادہ ہے، وہاں مرکزی بینک کو شرحِ سود کے حوالے سے مزید اقدامات کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے تاکہ معاشی توازن برقرار رہے۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں مرکزی بینک کی پالیسی شرحِ سود غیر جانبدار سطح سے کم دکھائی دیتی ہے۔ اس صورتحال میں معاشی استحکام کے لیے مزید سخت مالیاتی فیصلوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ شرح حکومت کے مقرر کردہ چار فیصد کے ہدف سے کم ہے، جبکہ عالمی بینک کے تخمینے کے بھی قریب ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی بحالی کی رفتار توقعات سے سست رہ سکتی ہے۔
پاکستان کی جانب سے روپے کی قدر میں لچک برقرار رکھنے کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیا گیا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ شرحِ مبادلہ میں اچانک بڑی تبدیلی سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ برآمدات میں فوری اور نمایاں اضافے کے امکانات بھی غیر یقینی ہیں۔
آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ خطے کی متعدد معیشتوں میں 2026 کے دوران مالیاتی پالیسی نسبتاً نرم رہے گی۔ تاہم 2027 سے مالیاتی استحکام اور اخراجات میں ضبط و تحمل کی پالیسی دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے تاکہ طویل مدتی معاشی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
رپورٹ کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد لچکدار شرحِ مبادلہ رکھنے والے ممالک میں پاکستان واحد ملک تھا جس نے شرحِ سود میں اضافہ کیا۔ یہ اقدام ملکی معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے اور افراطِ زر کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی یہ رپورٹ ملکی معیشت کے لیے ایک انتباہ ہے جس پر توجہ دینا ضروری ہے۔ بیرونی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھنے کے لیے برآمدات میں اضافہ اور درآمدات کو محدود کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
حکومت کی جانب سے ان معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مختلف اصلاحات پر کام جاری ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، مالیاتی نظم و ضبط اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے پاکستان اپنی بیرونی مالیاتی پوزیشن کو مستحکم بنا سکتا ہے۔





اپنی رائے دیں