ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے صارفین کے برعکس، پاکستان کی آئل ریفائنریز اور تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران اپنے منافع میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں درج کمپنیوں کی جانب سے جاری کردہ مالیاتی رپورٹس کے مطابق، ریفائنریز کے منافع میں گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں ایک ہزار فیصد سے زائد کا غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو معاشی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، اٹک ریفائنری کا خالص منافع گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی کے 1.45 ارب روپے سے بڑھ کر 18.65 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جو کہ تقریباً 1184 فیصد کا اضافہ ہے۔
اسی طرح نیشنل ریفائنری کا منافع 1.03 ارب روپے سے بڑھ کر 11.57 ارب روپے، جبکہ پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کا منافع 1.02 ارب روپے سے بڑھ کر 13.97 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ یہ دونوں کمپنیاں بالترتیب 1029 اور 1274 فیصد اضافے کے ساتھ نمایاں رہی ہیں۔
صرف ریفائنریز ہی نہیں بلکہ تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے بھی منافع میں بہتری دکھائی ہے۔ پاکستان آئل فیلڈز کا منافع 51 فیصد اضافے کے ساتھ 8.19 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
آئل مارکیٹنگ کمپنی، اٹک پیٹرولیم لمیٹڈ نے بھی اپنی کارکردگی کو بہتر بناتے ہوئے گزشتہ برس کے 3.81 ارب روپے کے مقابلے میں 6.64 ارب روپے کا خالص منافع کمایا ہے، جو کہ 74 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس غیر معمولی منافع کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر خام تیل اور تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات، خاص طور پر ڈیزل کی قیمتوں کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے، جسے صنعت میں 'گراس ریفائنری مارجن' یا 'کریک سپریڈ' کہا جاتا ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہر زاہد میر کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں سپلائی چین کی رکاوٹوں نے عالمی منڈی میں ڈیزل کی قلت پیدا کی، جس سے اس کی قیمت خام تیل کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے بڑھی۔
ماہرین کے مطابق، جنگ سے قبل پیٹرول پر یہ مارجن تقریباً 12 ڈالر فی بیرل تھا جو بڑھ کر 26 سے 27 ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ ڈیزل پر یہ فرق 12 سے 15 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر تقریباً 50 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا، جس کا براہِ راست فائدہ ریفائنریز کو ہوا۔
اس کے علاوہ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 'انوینٹری گین' سے بھی فائدہ پہنچا۔ تجزیہ کار اسد علی کے مطابق، ریگولیٹری تقاضوں کے تحت کمپنیوں کے پاس ایندھن کا ذخیرہ موجود ہوتا ہے، اور قیمتیں بڑھنے سے ان ذخیرہ شدہ مصنوعات کی قدر میں اضافہ ان کے منافع کا باعث بنا۔
تجزیہ کار خرم حسین کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر ریفائننگ صلاحیت پر دباؤ کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر میں ریفائنریز کے مارجن میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ امریکی کمپنی ولیرو انرجی کا منافع بھی اسی عرصے میں 450 فیصد تک بڑھا ہے۔
اگرچہ خام تیل کی درآمدی لاگت میں اضافہ ہوا، لیکن پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ اس لاگت سے کہیں زیادہ رہا، جس نے ریفائنریز کے مالیاتی نتائج کو انتہائی مضبوط بنا دیا ہے۔
یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں مہنگائی کی شرح میں اتار چڑھاؤ رہا اور صارفین ایندھن کی بلند قیمتوں کے اثرات روزمرہ کی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی محسوس کرتے رہے ہیں۔





اپنی رائے دیں