پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مینا خان آفریدی نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کی گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو اس طرح کے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔
اپنے ایک بیان میں مینا خان آفریدی نے سہیل آفریدی کی گرفتاری اور اسپیکر اسمبلی کو حراست میں لیے جانے کے عمل کو آئینی بالادستی پر کھلا وار قرار دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب اسمبلی تحلیل نہیں ہوئی تو اسپیکر کو گرفتار کرنے کا کیا جواز ہے۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ کیا اب آئینی عہدوں کا احترام ریاستی طاقت کے سامنے بے معنی ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمان کو کسی بھی قسم کے دباؤ کے ذریعے خاموش نہیں کروایا جا سکتا اور نہ ہی آئین کی بالادستی پر سمجھوتہ ہوگا۔
مینا خان آفریدی نے مزید کہا کہ منتخب نمائندوں کے خلاف کارروائیاں جمہوری عمل کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمانی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور آئینی اداروں کو ان کے دائرہ اختیار میں کام کرنے دیا جائے۔
اس موقع پر انہوں نے ماضی کے سیاسی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جدوجہد میں استقامت ہی اصل کامیابی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پی ٹی آئی اپنے موقف پر قائم رہے گی اور جمہوری حقوق کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھاتی رہے گی۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کی گرفتاری کا معاملہ سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں کے درمیان اس معاملے پر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے اس گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی قیادت کا موقف ہے کہ ایسے اقدامات سے ملک میں سیاسی استحکام نہیں آ سکتا اور حکومت کو چاہیے کہ وہ آئینی تقاضوں کو پورا کرے۔
دوسری جانب ریاستی اداروں کی جانب سے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے حوالے سے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی کا اصرار ہے کہ اسپیکر کا عہدہ ایک آئینی حیثیت رکھتا ہے جس کا تقدس پامال نہیں ہونا چاہیے۔
مینا خان آفریدی کے بیان کے بعد سیاسی صورتحال میں مزید گرما گرمی پیدا ہو گئی ہے۔ کارکنوں کی جانب سے بھی اس گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے تاکہ اپنی قیادت کے موقف کو اجاگر کیا جا سکے۔
پارلیمانی نظام میں اسپیکر کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے کیونکہ وہ ایوان کی کارروائی کو آئین کے مطابق چلانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اسپیکر کی گرفتاری سے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔
آئندہ دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی ہلچل متوقع ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کے آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ گرفتار رہنماؤں کی رہائی کو یقینی بنایا جا سکے اور آئینی بحران کو ٹالا جا سکے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کی ضرورت ہے۔ اگر اس معاملے کو جلد حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صوبائی اسمبلی کی کارروائی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
مینا خان آفریدی نے اپنے پیغام میں کارکنوں کو پرامن رہنے کی تلقین کی ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پارٹی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ آئین اور قانون کی بالادستی ہی ملک کی ترقی کا واحد راستہ ہے۔





اپنی رائے دیں