مواد پر جائیں
منگل، 13 اکتوبر 2026 صبح 6:56 2 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 5:57
بریکنگ
حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل، نئی قیمتوں کا اطلاق فوری ہوگاروسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف 4 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئےراولپنڈی: 12 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاکخیبرپختونخوا: تعلیمی ادارے اور بی آر ٹی سروس بحال، حالات معمول پرخیبرپختونخوا میں بے امنی کا پروپیگنڈا، وزارت اطلاعات نے حقائق واضح کر دیےخیبرپختونخوا میں بدامنی کا تاثر: سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد پھیلانے کا انکشافافغان سرزمین کا استعمال روکنا طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے: وزارت اطلاعاتصدر مملکت آصف علی زرداری نے سینٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیاکوئٹہ: میر ہوٹل کے قریب پولیس موبائل پر حملہ، ایک اہلکار شہید، 4 زخمیحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگالاہور: ون ویلنگ اور ہلڑبازی کرنے والے 7 افراد گرفتار، مقدمات درجاسرائیل نے انڈونیشی عملے کی موجودگی پر ایتھوپین کارگو طیارے کو واپس بھیج دیاسندھ پبلک سروس کمیشن: سی سی ای 2023 میں مبینہ بے ضابطگیوں پر نیب متحرکترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر کام تیزاسلام آباد: بیرون ملک تعلیم کا جھانسہ، گولڈ میڈلسٹ طالبہ سے 93 لاکھ روپے کا فراڈملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور ژالہ باری کی پیش گوئیوفاقی حکومت کی جانب سے اہم سرکاری افسران کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاریسعودی عرب ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، سلمان الدوسریترکیہ سعودی عرب پر غیر انسانی حملوں کے خلاف اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے: طیب اردگانوفاقی آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں کیلئے واجب التعمیل ہیں، جسٹس سید حسن اظہر رضوی
صبح 6:5613 اکتوبر
دنیا

نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناروے پر تنقید

سابق امریکی صدر نے نوبیل کمیٹی کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے جانبدارانہ قرار دے دیا۔

نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناروے پر تنقید

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک کے شہر سیراکیوز میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نوبیل امن انعام کے حالیہ فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امریکا کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ باوقار انعام ملنا چاہیے تھا، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران ناروے کی نوبیل کمیٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے ناروے اور انعام دینے والے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ انعام اب چند ایسے نظریاتی افراد کے ہاتھوں میں ہے جو جمہوریت اور تہذیب کے مخالف ہیں۔

سابق صدر نے 2026 کے نوبیل امن انعام یافتہ ناوی پلے کے حوالے سے بھی سخت الفاظ استعمال کیے اور انہیں ایک ایسی شخصیت قرار دیا جنہیں عالمی سطح پر زیادہ نہیں جانا جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ناروے کے اس فیصلے کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ ناوی پلے کو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے تحفظ اور جنگی جرائم و نسل کشی کے خلاف احتساب کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں 2026 کا نوبیل امن انعام دیا گیا ہے۔ وہ اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہ چکی ہیں۔

اپنی تقریر کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے اپنے دور صدارت میں متعدد جنگوں کو ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم، ان کے ان دعوؤں اور تنازعات کے حل میں ان کی حکمت عملی پر عالمی سطح پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

نوبیل کمیٹی کی جانب سے ہر سال امن کے لیے خدمات انجام دینے والی شخصیات کا انتخاب کیا جاتا ہے، جس پر اکثر عالمی سطح پر بحث و مباحثہ ہوتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان اسی سلسلے میں ایک تازہ ترین ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔

یاد رہے کہ ناوی پلے ماضی میں مختلف بین الاقوامی عدالتوں میں بطور جج بھی اپنے فرائض سرانجام دے چکی ہیں۔ ان کی خدمات کو عالمی برادری کی جانب سے انسانی حقوق کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے ناروے پر تنقید کا یہ معاملہ اب سیاسی حلقوں میں بھی زیر بحث ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سابق امریکی صدر کا یہ بیان ان کے مخصوص سیاسی بیانیے کا حصہ ہے جس میں وہ عالمی اداروں کے فیصلوں پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔

سیراکیوز میں ہونے والی اس ریلی میں ری پبلکن پارٹی کے دیگر امیدواروں نے بھی شرکت کی۔ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران خارجہ پالیسی اور عالمی اداروں کے ساتھ تعلقات کو اپنی تقریروں کا اہم حصہ بنایا ہوا ہے۔

نوبیل امن انعام کی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی سیاسی رہنما نے اس کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا ہو۔ ماضی میں بھی کئی شخصیات نے کمیٹی کے فیصلوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، تاہم ٹرمپ کا انداز اس معاملے میں کافی جارحانہ رہا ہے۔

ادھر عالمی سطح پر ناوی پلے کو ملنے والے اس اعزاز کو سراہا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اسے ایک درست فیصلہ قرار دیا ہے، جو عالمی انصاف کے لیے ان کی جدوجہد کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ناروے کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سفارتی حلقے اس بیان کو امریکا اور ناروے کے درمیان تعلقات کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں، حالانکہ یہ ایک انفرادی رائے ہے۔

آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید بحث متوقع ہے، خاص طور پر جب امریکا میں انتخابی ماحول گرم ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان ان کے حامیوں اور ناقدین کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے جو عالمی سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں