مواد پر جائیں
منگل، 13 اکتوبر 2026 رات 3:12 2 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:57
بریکنگ
خیبرپختونخوا: تعلیمی ادارے اور بی آر ٹی سروس بحال، حالات معمول پرخیبرپختونخوا میں بے امنی کا پروپیگنڈا، وزارت اطلاعات نے حقائق واضح کر دیےخیبرپختونخوا میں بدامنی کا تاثر: سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد پھیلانے کا انکشافافغان سرزمین کا استعمال روکنا طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے: وزارت اطلاعاتصدر مملکت آصف علی زرداری نے سینٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیاکوئٹہ: میر ہوٹل کے قریب پولیس موبائل پر حملہ، ایک اہلکار شہید، 4 زخمیجدید چینی مائیکرو ڈرامے: سماجی تبدیلی اور بدلتی ہوئی لسانیات کا عکاسخوشحالی کی خواہش اور ہجرت سے ہجر تک کا سفربھارتی فلم ‘دوسرا’ کے ٹریلر پر انیل کپور اور روہت شرما کا ردعملبالی ووڈ اداکارہ بپاشا باسو 6 سال بعد اسکرین پر واپسی کے لیے تیارزمبابوے کی سابق فاسٹ بولر اور معروف امپائر سارہ ڈمبانیوانا انتقال کر گئیںپشاور: تمام تعلیمی ادارے 13 اکتوبر کو معمول کے مطابق کھلے رہیں گےوفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا پولیس کو 10 بکتر بند گاڑیاں فراہم کرنے کا فیصلہکراچی میں عالمی تعلیمی کانفرنس، 34 ممالک کے ماہرین کی شرکتمیئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا ناتھا خان لنک روڈ کا دورہ، جلد کھولنے کا اعلانسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا انتظامی ڈھانچہ تبدیل، 25 ٹاؤنز میں تقسیمواٹس ایپ میں میسجز شیڈول کرنے کا نیا فیچر متعارف کرانے کی تیاریخیبرپختونخوا سے متعلق سوشل میڈیا پر گمراہ کن مہم کا انکشافیمن میں فوجی مداخلت پر حوثیوں کی امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکیپی ٹی آئی خیبرپختونخوا کابینہ کا گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر جمہوری قرار
رات 3:1213 اکتوبر
پاکستان

بچوں کے محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کیلئے نیشنل پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد

اسلام آباد میں منعقدہ مکالمے میں 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر والدین کی تصدیق لازمی قرار دینے کی سفارش کی گئی۔

بچوں کے محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کیلئے نیشنل پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد

اسلام آباد میں بچوں کے محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے 'نیشنل پالیسی ڈائیلاگ آن سیف اسکرول' کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم تقریب کا اہتمام چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب اور وزارتِ انسانی حقوق نے یونیسف پاکستان اور یو این ایف پی اے کے تعاون سے کیا۔

اس مکالمے کا بنیادی مقصد بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات سے محفوظ رکھنا، سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا اور اس حوالے سے مؤثر قانونی و پالیسی اقدامات کے لیے قومی سطح پر مشاورت کو آگے بڑھانا تھا۔

چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب کی چیئرپرسن سارہ احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے 10 اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل دور میں بچوں کے حقوق، رازداری اور سلامتی کے تحفظ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

سارہ احمد کی جانب سے پیش کردہ سفارشات میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لیے والدین کی تصدیق شدہ رضامندی اور عمر کی تصدیق کا ایک قابلِ اعتماد نظام متعارف کروانے پر زور دیا گیا ہے۔

انہوں نے وفاقی اور صوبائی اداروں کے مابین مؤثر رابطہ کاری، آن لائن شکایات پر فوری کارروائی، سائبر بُلنگ، ڈیجیٹل گرومنگ اور آن لائن ہراسانی کی روک تھام کے لیے مربوط اقدامات کو ناگزیر قرار دیا۔

اس موقع پر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ بچوں کا تحفظ ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی اور ادارہ جاتی تعاون کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

وفاقی وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچوں کو سائبر بُلنگ اور ڈیجیٹل گرومنگ سے بچانے کے لیے ایک مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا۔

آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے بھی تقریب میں شرکت کی اور بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے اس ضمن میں بین الاقوامی تجربات سے استفادہ کرنے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

نیشنل پالیسی ڈائیلاگ میں آئی ٹی کے ماہرین، قانونی مشیران، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کی ریگولیشن اور ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

مختلف سیشنز کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے مواقع سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت، والدین اور ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بچوں کے لیے ایک محفوظ، مثبت اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل ماحول کے فروغ کے لیے اپنے ادارہ جاتی کردار کو مزید مؤثر اور فعال بنائے گا۔

تقریب کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ محفوظ اسکرولنگ ہر بچے کا بنیادی حق ہے، جس کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور قانونی حدود کا تعین کرنا ضروری ہے۔

یہ مکالمہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جاری حکومتی کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں