کراچی میں اکتوبر کا مہینہ نصف سے زائد گزرنے کے باوجود شدید گرمی کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے اور شہر قائد میں سورج کی تپش بدستور برقرار ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت چالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی کے موسم میں اس غیر معمولی گرمی کی بڑی وجہ شمال مغربی سمت سے چلنے والی ہوائیں ہیں جو بلوچستان کے علاقوں سے آ رہی ہیں۔ ان خشک اور گرم ہواؤں کے باعث شہر کا ماحول خاصا گرم محسوس کیا جا رہا ہے۔
شہر کے باسیوں کو اس گرمی کی لہر کے دوران خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ اکتوبر کے وسط میں عام طور پر ہلکی خنکی شروع ہو جاتی ہے۔ تاہم موجودہ موسمی حالات کے پیش نظر خنکی کی بجائے گرمی کے اثرات زیادہ گہرے دکھائی دے رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے ارضیاتی اور موسمیاتی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ کراچی میں گرمی کی اس لہر کے اثرات فوری طور پر ختم ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔ آنے والے چند دنوں میں بھی اس کی شدت برقرار رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
موسمیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں بالخصوص بدھ اور جمعرات کے روز شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت اٹھتیس ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے بھی زیادہ تجاوز کر سکتا ہے۔ اس دوران حبس اور گرمی کا یہ عالم برقرار رہنے کی توقع ہے۔
شہریوں کی صحت اور حفاظت کے پیش نظر ماہرینِ صحت اور محکمہ موسمیات نے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں جن میں شہریوں کو غیر ضروری طور پر تیز دھوپ میں باہر نکلنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ لوگ دن کے اوقات میں بلاوجہ گھروں سے باہر نہ آئیں اور خاص طور پر دوپہر کے وقت شدید دھوپ سے بچنے کی بھرپور کوشش کریں تاکہ ہیٹ اسٹروک جیسی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکے۔
گرمی کے اس طویل تسلسل کے دوران جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پانی اور دیگر مشروبات کا استعمال کریں تاکہ صحت کے مسائل سے بچا جا سکے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت کے باعث بچوں اور بزرگوں کو خاص طور پر احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ وہ موسم کی تبدیلی اور گرمی کے منفی اثرات کا شکار جلدی ہو سکتے ہیں۔
تعلیمی اداروں، دفاتر اور دیگر عوامی مقامات پر بھی لوگوں کو گرمی سے بچاؤ کے لیے مناسب اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ روزمرہ کے امور میں کسی بڑی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کراچی کی ساحلی پٹی پر سمندری ہواؤں کی عدم موجودگی یا ان کے کمزور پڑنے کی وجہ سے بھی خشکی اور گرمی کے اثرات میں اضافہ ہوا ہے جس سے شہر کا ماحول گرم تر ہو گیا ہے۔
صحت عامہ کے اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ شدید گرمی کی ان صورتحال میں احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور خود کو اور اپنے اہلِ خانہ کو محفوظ رکھیں۔
شہر میں جاری اس گرمی کی لہر کے تناظر میں تمام متعلقہ اداروں کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے تاکہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے اور شہریوں کو سہولیات فراہم کی جا سکیں۔




اپنی رائے دیں