وفاقی وزیر مملکت اور معاون خصوصی حذیفہ رحمان نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خیبر پختونخوا میں جاری آپریشن اور معدنیات سے متعلق حالیہ بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔
حذیفہ رحمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کو معدنیات کی جنگ قرار دینا انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیانات سے ملک کی سیکیورٹی فورسز کے مورال پر اثر پڑتا ہے اور یہ شہداء کی قربانیوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
وزیر مملکت نے مزید کہا کہ ریاست کی رٹ ہر چیز سے مقدم ہے اور کوئی بھی فرد یا جماعت ریاست سے بڑی نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کسی خاص مفاد کے لیے نہیں بلکہ ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پی ڈی ایم کے دور میں اپنی سیاسی جدوجہد کی پوری قیمت وصول کی ہے، لہذا اب انہیں قومی سلامتی کے حساس معاملات پر سیاست کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کو متنازع بنانے کی کوششیں ملک دشمن عناصر کے بیانیے کو تقویت دیتی ہیں۔ انہوں نے سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ قومی یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔
دوسری جانب رانا ثناء اللہ نے بھی اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کی حکمت عملی واضح ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کارروائیوں کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے اور امن بحال ہو جائے گا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے، تاہم حکومت اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان علاقوں میں امن کا قیام چند ہفتوں یا مہینوں کی بات ہے۔
حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے بیانات حقائق کے برعکس ہیں اور ان کا مقصد صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے بیان کو برداشت نہیں کرے گی جو قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف ہو۔ تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ملکی مفاد کو اپنی سیاست پر ترجیح دیں اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔




اپنی رائے دیں