مواد پر جائیں
اتوار، 1 نومبر 2026 21 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
بھارت میں ٹریفک حادثہ، معروف گلوکار ہنی سنگھ کا بھانجا جاں بحقایرانی حملوں سے مشرق وسطیٰ میں 24 امریکی فوجی اڈے اور 274 عمارتیں تباہلاہور میں ٹرین حادثے اور مختلف واقعات میں خاتون سمیت چار افراد جاں بحقسیالکوٹ: ٹک ٹاکر کی مہندی تقریب میں بھگدڑ، ایک شخص ہلاکبائنانس نے سائبر حملے کے دوران چرائے گئے اثاثوں کا نوے فیصد حصہ واپس کر دیاآسٹریلوی پی جی اے چیمپئن شپ، تاریخی جو کرک ووڈ کپ سڈنی پہنچ گیاامہرسٹ کالج نے ٹفٹس یونیورسٹی کو 21 کے مقابلے میں 24 پوائنٹس سے شکست دیصادق پبلک اسکول بہاولپور نے تقریری مقابلے کی ٹرافی جیت لیقاہرہ کی مرکزی شاہراہ پر ڈیجیٹل بل بورڈ ہیک، نازیبا ویڈیو نشرپاکستان کو جی 24 کی چیئرمین شپ ملنے پر وزیراعظم کا خیرمقدمگیس کی قلت: نئے گھریلو اور کمرشل کنکشنز پر پابندی غیر معینہ مدت تک عائدلاہور: شالیمار پولیس نے 6 سالہ بچے سے بدفعلی کی کوشش ناکام بنادی، ملزم گرفتارلاہور: ٹرائی سیریز پر بہترین ٹریفک انتظامات، سی ٹی او کی افسران کو شاباشڈولفن سکواڈ کی کارروائیاں، 10 اشتہاریوں سمیت 18 عادی مجرمان گرفتاراین سی سی آئی اے کی کارروائیاں، خواتین کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان دبوچ لیےنایاب علی اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں پاکستانی وفد کا حصہ بن گئیںکوئن پیاک نے پروویڈنس کو ایک کے مقابلے میں پانچ گول سے ہرا دیاسعودی عرب: اسکولوں میں آج سے آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروعممفس ٹائیگرز نے امریکن فٹبال میچ میں آرمی بلیک نائٹس کو شکست دے دیسید اقرار الحسن کی ضمانت منظور، فوری رہائی کا حکم
سیاست

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ: بلاول بھٹو کا مشترکہ لائحہ عمل پر زور

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپوزیشن متفق ہو تو گورنر راج یا ایمرجنسی کی ضرورت نہیں رہے گی۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ: بلاول بھٹو کا مشترکہ لائحہ عمل پر زور

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے۔

ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ اگر اپوزیشن جماعتیں دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر ایک مشترکہ لائحہ عمل اور متفقہ موقف اختیار کر لیں تو صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے اقدامات کی نوبت نہیں آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ باعث تشویش ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک قومی چیلنج ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر ایک ایسی حکمت عملی بنانی ہوگی جو دیرپا امن کی ضمانت دے سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن قومی سلامتی کے معاملات پر سیاست سے بالاتر ہو کر سوچنا وقت کا تقاضا ہے تاکہ ملک دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے طویل عرصے تک دہشت گردی کا سامنا کیا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ انہیں ایک پرامن ماحول فراہم کیا جائے جس کے لیے ریاستی اداروں کی کوششیں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن جماعتیں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے اور قومی بیانیے پر اتفاق کرنے کے لیے تیار ہوں تو سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے دیگر راستے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی جماعت ملک میں جمہوریت کے استحکام اور آئینی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور کسی بھی غیر معمولی اقدام سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا ضروری سمجھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور پوری قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے تاکہ ملک میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھا جا سکے۔

سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا معاملہ تبھی زیر غور آ سکتا ہے جب حالات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ جہاں آئینی تقاضوں کو پورا کرنا ناگزیر ہو جائے، تاہم وہ اس کے حق میں نہیں ہیں۔

انہوں نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط اور متفقہ موقف سامنے آ سکے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ سے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر کاربند رہی ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔

آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام سیاسی جماعتیں ملکی مفاد کو ترجیح دیں گی اور خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں امن کے قیام کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔

اس موضوع پر مزید خبریں

سیاست کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں