مواد پر جائیں
ہفتہ، 31 اکتوبر 2026 20 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
کراچی: سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیر پراسرار طور پر انتقال کر گئےلکی مروت جوڈیشل کمپلیکس میں فائرنگ، پولیس اہلکار جاں بحق اور پیپلز پارٹی رہنما سمیت دو زخمیکراچی: لیاقت آباد میں ٹریلر کی موٹرسائیکل کو ٹکر، ایک خاتون جاں بحقاسلام آباد ہائیکورٹ: سی ڈی اے حکام کے خلاف توہینِ عدالت کے دو کیسز سماعت کے لیے مقررمظفرگڑھ: بوائز سکولز میں چھٹی جماعت سے اوپر طالبات کے داخلوں پر پابندیکراچی: جناح اسپتال میں بجلی کی بندش سے تشخیصی سہولیات متاثربائننس ہیکنگ کیس: شمالی کوریا کے ہیکرز ملوث ہونے کا انکشافایف بی آر اکتوبر 2026 کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام، 116 ارب روپے کمی کا امکانایسٹن ولا کا جیمی کیراگر کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا 57 برس کی عمر میں انتقال کر گئےامریکہ: سزائے موت سے بچ جانے والی قیدی کرسٹا پائیک کا مسلسل تکلیف میں مبتلا ہونے کا انکشافمیونخ ایئر ڈیزاسٹر یادگار سے قیمتی اشیاء چوری، انتظامیہ کا افسوس کا اظہاراوگرا نے ایل این جی کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیااو ڈی آئی ٹرائی سیریز کا فائنل: پاکستان اور سری لنکا آج لاہور میں مدمقابلہالی وڈ اداکار بریڈ پٹ کا بچوں سے دوری کے حوالے سے جذباتی اظہارامریکہ ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے قطری سفارتی وفد تہران پہنچ گیاسپین میں ہولناک ٹرین حادثے نے قبل از وقت انتخابات کا رخ بدل دیابنانس کو تاریخ کے سب سے بڑے ہیک کا سامنا، 6.3 ارب ڈالر چوریروس کے سمارا ریجن کی آئل ریفائنری پر یوکرین کا ڈرون حملہجیمز اینڈرسن کا لنکاشائر سے علیحدگی پر صدمے کا اظہار، کیریئر کا مستقبل غیر یقینی
پاکستان

وزیراعلیٰ مریم نواز نے سوشل سیکیورٹی موبائل ہیلتھ پروگرام کا افتتاح کر دیا

46 لاکھ سے زائد صنعتی ورکرز اور ان کے اہل خانہ کو علاج کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں صنعتی ورکرز کی فلاح و بہبود کے لیے سوشل سیکیورٹی موبائل ہیلتھ پروگرام کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مزدور طبقے کو صحت کی جدید سہولیات ان کی دہلیز پر پہنچانا ہے۔

اس نئے پروگرام کے تحت پنجاب بھر میں 46 لاکھ سے زائد صنعتی ورکرز اور ان کے اہل خانہ مستفید ہو سکیں گے۔ یہ موبائل ہیلتھ یونٹس صنعتی علاقوں میں جا کر مریضوں کا طبی معائنہ کریں گے اور انہیں بروقت علاج کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس پروگرام کا دائرہ کار صوبے کے صنعتی مراکز تک پھیلایا جائے گا تاکہ ورکرز کو علاج کے لیے ہسپتالوں کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔ اس جدید نظام سے مزدوروں کے قیمتی وقت اور وسائل کی بچت ممکن ہوگی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے اس موقع پر کہا کہ صنعتی ورکرز ملکی معیشت کا پہیہ چلانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی صحت کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہیلتھ یونٹس کی کارکردگی کو شفاف اور موثر بنایا جائے۔

اس پروگرام کے تحت موبائل ہیلتھ یونٹس میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ یہ یونٹس صنعتی علاقوں کے قریب تعینات کیے جائیں گے تاکہ ورکرز اپنی شفٹوں کے دوران یا بعد میں آسانی سے طبی سہولیات حاصل کر سکیں۔

صوبائی حکومت کی جانب سے اس منصوبے کو پنجاب سوشل سیکیورٹی کے نیٹ ورک کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے تاکہ ڈیٹا کی درستگی اور خدمات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ اس سے قبل ورکرز کو علاج کے لیے سوشل سیکیورٹی ہسپتالوں تک سفر کرنا پڑتا تھا۔

پنجاب حکومت کا ماننا ہے کہ صحت کی سہولیات کی فراہمی سے صنعتی پیداوار میں بھی بہتری آئے گی کیونکہ صحت مند ورکرز بہتر انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ مزدوروں کے معیار زندگی کو بلند کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

اس موقع پر متعلقہ محکموں کے افسران نے وزیراعلیٰ کو پروگرام کے خدوخال اور ہیلتھ یونٹس کی ورکنگ کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ ہیلتھ یونٹس میں مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے اور علاج میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔

صنعتی ورکرز کی تنظیموں نے حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے مزدور دوست پالیسی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہلیز پر علاج کی سہولت ملنا ایک دیرینہ مطالبہ تھا جس پر عمل درآمد خوش آئند ہے۔

حکومت پنجاب نے اس منصوبے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے تاکہ مریضوں کا ریکارڈ ڈیجیٹل طریقے سے محفوظ کیا جا سکے۔ اس سے علاج کے عمل میں شفافیت آئے گی اور ادویات کی فراہمی میں بھی بہتری آئے گی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے مزید کہا کہ پنجاب کے عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ اس طرح کے فلاحی منصوبے عوام کا حکومت پر اعتماد بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

اس افتتاحی تقریب میں صوبائی وزراء، اعلیٰ حکام اور صنعتی شعبے سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔ پروگرام کے کامیاب نفاذ کے لیے ایک مانیٹرنگ سیل بھی قائم کیا گیا ہے جو ہیلتھ یونٹس کی روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی کا جائزہ لے گا۔

اس موضوع پر مزید خبریں

پاکستان کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں