مواد پر جائیں
اتوار، 1 نومبر 2026 21 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
ٹام نولان نے یو ایف سی ویگاس 123 میں ریناٹو موئکانو کو شکست دیدیصادق پبلک اسکول بہاولپور کے ہونہار طلبہ کی شاندار کامیابیاںجنوبی افریقہ کے خلاف سیریز شکست پر آسٹریلیا کو کڑے سوالات کا سامنامصر کی مصروف شاہراہ پر لگے اشتہاری بورڈ پر نازیبا ویڈیو چل پڑیپاکستان کو جی 24 کی چیئرمین شپ ملنے پر وزیراعظم کا اظہارِ مسرت، اہم سفارتی سنگِ میل قرار دے دیاگیس بحران میں اضافہ، نئے گھریلو کنکشن پر پابندی غیر معینہ مدت تک بڑھا دی گئیلاہور: شالیمار پولیس نے 6 سالہ بچے سے بدفعلی کی کوشش ناکام بنادی، ملزم گرفتارمصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری سے جنوبی کوریا کی برآمدات میں 50 سال کا ریکارڈ اضافہلاہور: ٹرائی سیریز پر بہترین ٹریفک انتظامات، سی ٹی او کی افسران کو شاباشڈولفن سکواڈ کی کارروائیاں، 10 اشتہاریوں سمیت 18 عادی مجرمان گرفتاراین سی سی آئی اے کی کارروائی، خواتین کو آن لائن بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان گرفتارنایاب علی اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں پاکستانی وفد کا حصہ بن گئیںکوئن پیاک نے پروویڈنس کو ایک کے مقابلے میں پانچ گول سے ہرا دیاسعودی عرب: اسکولوں میں آج سے آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروعممفس ٹائیگرز نے امریکن فٹبال میچ میں آرمی بلیک نائٹس کو شکست دے دیکراچی سٹی کورٹ نے اقرار الحسن کی ضمانت منظور کر لیکووینٹری سٹی نے سننڈر لینڈ کو شکست دے کر ریلیگیشن زون سے چھٹکارا پا لیاٹائرس میکسی کی شاندار کارکردگی، سکسرز نے ہورنیٹس کو شکست دے دیایل پی جی ایسوسی ایشنز کا 16 نومبر سے ملک گیر ہڑتال کا اعلانپشاور: ڈیلی ویجز ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق بڑا فیصلہ
پاکستان

خیبر پختونخوا میں مجبوری کے تحت ایمرجنسی لگانا پڑی: وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں خاموش تماشائی بن کر تباہی نہیں دیکھ سکتے تھے۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے گوجرانوالہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر خیبر پختونخوا میں مجبوری کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت صوبے کی ترقی اور خوش حالی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے لیکن صوبے میں آئے روز کی دھمکیوں اور متنازع لانگ مارچ کے پروگرامز کی وجہ سے پورے ملک کا انتظامی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے متعلقہ حلقوں کو پہلے ہی باور کرا دیا تھا کہ صوبے کو ترقیاتی امور اور فلاحی کاموں کے لیے جو بھی مالی وسائل درکار ہوں گے، وفاقی حکومت انہیں بلا تامل فراہم کرے گی۔

شہباز شریف کا مؤقف تھا کہ اگر ایسے کشیدہ اور خطرناک حالات میں وفاقی حکومت خاموش تماشائی بنی رہتی تو یہ ایک بڑی مجرمانہ غفلت کے مترادف ہوتا جسے آنے والی نسلیں کبھی معاف نہ کرتیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی سلامتی اور آئینی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے بروقت فیصلے کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکے تھے تاکہ کسی بھی بڑے قومی نقصان اور بدترین بحران کو روکا جا سکے۔

وزیراعظم نے اپنی گفتگو میں اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ سابق وزیر اعلیٰ سے متعدد بار رابطہ کرکے کہا گیا تھا کہ دہشت گردی کے ناسور کے خلاف تمام قوتوں کو باہم مل کر مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔

تاہم ان کا شکوہ تھا کہ اس مخلصانہ تعاون کی پیشکش کے جواب میں مسلسل اشتعال انگیز بیانات اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں جو کہ ملکی مفاد اور امن کے منافی تھیں۔

وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ اس بار بھی احتجاج اور دھرنے کی سیاست کرنے والوں نے مبینہ طور پر خوں ریزی کا خطرناک منصوبہ بنا رکھا تھا جو ملکی سلامتی اور عوام کے جان و مال کے لیے براہ راست خطرہ تھا۔

انہوں نے متعلقہ سیاسی جماعت کی ماضی کی سیاسی تاریخ کو بھیانک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پرتشدد اقدامات سے ہمیشہ ملکی معیشت، عوامی املاک اور پُرامن ماحول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

خیبر پختونخوا کے غیور عوام کی لازوال قربانیوں کا کھل کر اعتراف کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہاں کے باسیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ جانی و مالی قربانیاں پیش کی ہیں اور وہ امن کے مستحق ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سنہ دو ہزار اٹھارہ کے بعد سے پڑوسی ملک افغانستان کی سمت سے دہشت گردی کا جو مذموم سلسلہ شروع ہوا تھا، وہ بدستور کسی نہ کسی شکل میں اب تک مسلسل جاری و ساری ہے۔

خطے کی مجموعی اور پیچیدہ صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ خلیجی جنگ کے منفی اور گہرے اثرات پوری علاقائی معیشت اور ملکی حالات پر براہ راست مرتب ہو رہے ہیں جن سے نمٹنا ناگزیر ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی آگاہ کیا کہ اس قومی بحران سے احسن طریقے سے نمٹنے کے لیے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین نے دن رات بیٹھ کر مسلسل اور سنجیدہ کوششیں کیں تاکہ معاملات کو افہام و تفہیم سے سلجھایا جا سکے۔

خیال رہے کہ حالیہ چند روز کے دوران خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا جس کی آئینی تقاضوں کے مطابق ملک کی پارلیمنٹ نے باضابطہ طور پر توثیق کر دی ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

پاکستان کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں