وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے گوجرانوالہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر خیبر پختونخوا میں مجبوری کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت صوبے کی ترقی اور خوش حالی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے لیکن صوبے میں آئے روز کی دھمکیوں اور متنازع لانگ مارچ کے پروگرامز کی وجہ سے پورے ملک کا انتظامی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے متعلقہ حلقوں کو پہلے ہی باور کرا دیا تھا کہ صوبے کو ترقیاتی امور اور فلاحی کاموں کے لیے جو بھی مالی وسائل درکار ہوں گے، وفاقی حکومت انہیں بلا تامل فراہم کرے گی۔
شہباز شریف کا مؤقف تھا کہ اگر ایسے کشیدہ اور خطرناک حالات میں وفاقی حکومت خاموش تماشائی بنی رہتی تو یہ ایک بڑی مجرمانہ غفلت کے مترادف ہوتا جسے آنے والی نسلیں کبھی معاف نہ کرتیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی سلامتی اور آئینی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے بروقت فیصلے کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکے تھے تاکہ کسی بھی بڑے قومی نقصان اور بدترین بحران کو روکا جا سکے۔
وزیراعظم نے اپنی گفتگو میں اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ سابق وزیر اعلیٰ سے متعدد بار رابطہ کرکے کہا گیا تھا کہ دہشت گردی کے ناسور کے خلاف تمام قوتوں کو باہم مل کر مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔
تاہم ان کا شکوہ تھا کہ اس مخلصانہ تعاون کی پیشکش کے جواب میں مسلسل اشتعال انگیز بیانات اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں جو کہ ملکی مفاد اور امن کے منافی تھیں۔
وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ اس بار بھی احتجاج اور دھرنے کی سیاست کرنے والوں نے مبینہ طور پر خوں ریزی کا خطرناک منصوبہ بنا رکھا تھا جو ملکی سلامتی اور عوام کے جان و مال کے لیے براہ راست خطرہ تھا۔
انہوں نے متعلقہ سیاسی جماعت کی ماضی کی سیاسی تاریخ کو بھیانک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پرتشدد اقدامات سے ہمیشہ ملکی معیشت، عوامی املاک اور پُرامن ماحول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
خیبر پختونخوا کے غیور عوام کی لازوال قربانیوں کا کھل کر اعتراف کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہاں کے باسیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ جانی و مالی قربانیاں پیش کی ہیں اور وہ امن کے مستحق ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سنہ دو ہزار اٹھارہ کے بعد سے پڑوسی ملک افغانستان کی سمت سے دہشت گردی کا جو مذموم سلسلہ شروع ہوا تھا، وہ بدستور کسی نہ کسی شکل میں اب تک مسلسل جاری و ساری ہے۔
خطے کی مجموعی اور پیچیدہ صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ خلیجی جنگ کے منفی اور گہرے اثرات پوری علاقائی معیشت اور ملکی حالات پر براہ راست مرتب ہو رہے ہیں جن سے نمٹنا ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے یہ بھی آگاہ کیا کہ اس قومی بحران سے احسن طریقے سے نمٹنے کے لیے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین نے دن رات بیٹھ کر مسلسل اور سنجیدہ کوششیں کیں تاکہ معاملات کو افہام و تفہیم سے سلجھایا جا سکے۔
خیال رہے کہ حالیہ چند روز کے دوران خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا جس کی آئینی تقاضوں کے مطابق ملک کی پارلیمنٹ نے باضابطہ طور پر توثیق کر دی ہے۔




اپنی رائے دیں