وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاشی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی اور ملک میں جاری ترقیاتی عمل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ موجودہ عالمی معیشت شدید قسم کی بے یقینی کی لپیٹ میں ہے اور اس کے مختلف اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں جاری مختلف تنازعات کے براہ راست یا بالواسطہ اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
حکومت ملک کے اندر معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لا رہی ہے اور تمام چیلنجز کے باوجود معاشی بہتری کا سفر لگاتار جاری ہے۔ وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں سرمایہ کاروں کو ہر قسم کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہو سکے۔
معاشی ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے نجی شعبے کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ وزیر خزانہ کے مطابق عالمی سطح پر سرمایہ کار پاکستان کی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ دیگر منڈیوں پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جو کہ ایک فطری عمل ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کی طرف سے جاری کردہ بانڈز میں یورپی ممالک اور امریکا کے سرمایہ کاروں کی طرف سے بھی کافی دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ٹیکس کے نظام میں بہتری لانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اصلاحات کا عمل جاری ہے اور ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے۔
حکومت نے یہ کوشش کی کہ پاکستان کے عوام کو دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پیٹرول کے حصول کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑا نہ ہونا پڑے اور ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے۔ حکام کی جانب سے عوام کو ہدف پر مبنی سبسڈی کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا کیونکہ بڑی گاڑیاں رکھنے والے افراد کو اس سبسڈی کی ہرگز ضرورت نہیں تھی۔
موسم سرما کے دوران ملک کی توانائی کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کرنے کے لیے ابھی سے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔ حکومت کو گیس اور مائع قدرتی یعنی ایل این جی کی تمام تر ضروریات کو وقت پر پورا کرنا ہوگا تاکہ گھریلو اور صنعتی صارفین کو پریشانی نہ ہو۔
پاکستان میں توانائی کی کسی بھی قسم کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی اور خام تیل سمیت توانائی کے دیگر تمام ذرائع کی فراہمی کی موجودہ صورتحال انتہائی تسلی بخش ہے۔ ماضی میں درآمدات پر زیادہ انحصار کرنے کی وجہ سے ملک کو شدید ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
مسلسل چار سے پانچ سال کی طویل محنت اور کوششوں کے بعد ملک کی کریڈٹ ریٹنگ کو دوبارہ بہتر بنا کر بی کی سطح پر لایا گیا ہے جو ایک اہم معاشی کامیابی ہے۔ وزیر خزانہ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ رواں مالی سال کے دوران ملک کی کل ترسیلات زر کی مالیت بیالیس سے چوالیس ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
ماضی میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ جنگی صورتحال کی وجہ سے ترسیلات زر میں نمایاں کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن اس کے برعکس ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہی ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معاشی استحکام کی بحالی کے لیے مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور شرح پالیسی کو ایک مناسب سطح پر برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
وزیر خزانہ نے حالیہ انٹرویو کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے تمام ضروری اصلاحات پر سختی سے عمل پیرا رہے گی۔ ملک کے تجارتی اور مالیاتی اشاریے بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہیں اور تاجر برادری کو بھی حکومتی پالیسیوں سے کافی حد تک اطمینان حاصل ہے۔
پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی اور عالمی معاشی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود ملکی معیشت نے زبردست پائیداری کا مظاہرہ کیا ہے۔ حکومت کی اولین ترجیح عام آدمی کو مہنگائی کے دباؤ سے بچانا اور ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کا اعتماد بھی اب پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر بحال ہو رہا ہے جس سے آنے والے دنوں میں مزید مثبت معاشی نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔ وزارت خزانہ تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر دن رات کام کر رہی ہے تاکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔
حکومت کی جانب سے برآمدات میں اضافے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید استحکام آ سکے۔ وزیر خزانہ نے یقین دلایا کہ ملکی معیشت کو درست سمت میں لے جانے کے لیے اصلاحاتی عمل بلا تعطل جاری رہے گا اور عوامی فلاح و بہبود کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔





اپنی رائے دیں