چین نے خلائی تحقیق، زمینی مشاہدے اور جدید سائنسی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس کے دو نئے گروپس کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کر دیے ہیں۔ یہ خلائی مشن بیجنگ کے وقت کے مطابق ہفتے کی صبح عمل میں لایا گیا، جس کے دوران جدید ترین سیٹلائٹس کو انتہائی کامیابی کے ساتھ ان کے مقررہ مدار میں داخل کر دیا گیا۔
اس سلسلے میں ملک کے معروف اور انتہائی اہم جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے یہ تمام کارروائی انجام دی گئی، جہاں تمام متعلقہ حکام، خلائی سائنسدان اور تکنیکی ماہرین موجود تھے۔ سیٹلائٹس کی روانگی کا یہ پیچیدہ عمل انتہائی کامیابی کے ساتھ طے شدہ مراحل کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔
موصول ہونے والی تفصیلی رپورٹس کے مطابق خلا میں بھیجے جانے والے ان سیٹلائٹس میں یاؤگان ترپنواں گروپ شامل ہے جس کے سیٹلائٹس سات سے نو تک ہیں، جبکہ اس کے ساتھ ہی یاؤگان چھپنواں گروپ بھی بھیجا گیا ہے جس کے سیٹلائٹس انیس سے اکیس تک پر مشتمل ہیں۔
یہ تمام جدید مصنوعی سیارے بغیر کسی تکنیکی رکاوٹ یا تاخیر کے پوری طرح کامیابی کے ساتھ اپنے مقررہ مدار میں داخل ہو چکے ہیں اور انہوں نے اپنے طے شدہ فرائض کی انجام دہی کے لیے تیاری شروع کر دی ہے۔
ان تمام مصنوعی سیاروں کو خلا میں کامیابی سے پہنچانے کے لیے طاقتور لانگ مارچ فور بی کیریئر راکٹ کا باقاعدہ استعمال کیا گیا، جس نے اس خلائی مشن کو بہترین انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اس تسلیم شدہ راکٹ کے ذریعے سیٹلائٹس کو ان کے مطلوبہ مقام پر درستگی کے ساتھ نصب کر دیا گیا۔
حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، یہ خلائی مشن دراصل معروف لانگ مارچ کیریئر راکٹ سیریز کا مجموعی طور پر چھ سو تہتر واں فلائٹ مشن تھا۔ یہ سنگ میل چینی خلائی پروگرام کی مسلسل کامیابی اور اس کی جدید تکنیکی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
خلا میں بھیجے گئے یہ جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس بنیادی طور پر متعدد کثیر المقاصد سائنسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ ان کا وسیع دائرہ کار سائنسی تجربات کے ساتھ ساتھ اہم زمینی امور کا احاطہ کرتا ہے۔
ان جدید سیٹلائٹس کی مدد سے زمین کے جغرافیائی حالات اور قدرتی وسائل کا تفصیلی سروے کیا جائے گا، جو ملکی ترقی، منصوبہ بندی اور وسائل کے موثر اور بہتر استعمال میں بھرپور مددگار ثابت ہوگا۔
اس کے علاوہ یہ جدید خلائی آلات مختلف ماحولیاتی اور موسمیاتی معلومات فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے، جس سے متعلقہ اداروں کو موسمی تبدیلیوں اور دیگر زمینی تغیرات کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
زراعت کے اہم شعبے میں بھی ان سیٹلائٹس سے بھرپور مدد لی جائے گی، بالخصوص فصلوں کی پیداوار کا درست تخمینہ لگانے اور زرعی معیشت کو بہتر بنانے میں یہ انتہائی مفید ثابت ہوں گے۔ اس سے کسانوں اور متعلقہ زرعی اداروں کو قبل از وقت درست اور بروقت اعداد و شمار مل سکیں گے۔
قدرتی آفات کی بروقت روک تھام اور ان سے ہنگامی حالات میں ہونے والے نقصانات میں کمی لانا بھی ان سیٹلائٹس کے اہم ترین مقاصد میں نمایاں طور پر شامل ہے۔ ہنگامی صورتحال اور ممکنہ قدرتی خطرات کی بروقت نشاندہی سے جانی و مالی نقصان کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
چین کا یہ نیا خلائی قدم ٹیکنالوجی کے میدان میں اس کی بڑھتی ہوئی مہارت اور تسلسل کو بخوبی ظاہر کرتا ہے۔ ملک میں خلائی تحقیق کے نئے منصوبے تیزی سے جاری ہیں اور ان جدید سیٹلائٹس کے ذریعے سائنسی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ سیٹلائٹس مستقبل میں اہم خلائی ڈیٹا کے حصول میں بنیادی کردار ادا کریں گے اور ملک کے آئندہ تحقیقی و ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی نئی راہیں ہموار کریں گے۔ لانگ مارچ راکٹ سیریز کی یہ شاندار کامیابی چینی خلائی ادارے کے لیے ایک اور بڑا اعزاز ہے۔





اپنی رائے دیں