جمعیت علماء اسلام خیبرپختونخوا نے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کو غیر جمہوری اور جمہوریت کی نفی قرار دیتے ہوئے ایڈوائزری کونسل میں شامل اپنی جماعت کے ارکان کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق تمام متعلقہ ارکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ تین روز کے اندر اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں بصورت دیگر ان کی جماعتی رکنیت معطل کر دی جائے گی۔
یہ فیصلہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع مفتی محمود مرکز میں صوبائی امیر سینیٹر مولانا عطا الرحمان کی زیر صدارت منعقد ہونے والے صوبائی مجلس عاملہ کے اہم اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی جنرل سیکرٹری سینیٹر مولانا عطا الحق درویش نے مرکزی شوریٰ کے فیصلوں پر تفصیلی روشنی ڈالی اور اراکین کو تنظیمی امور سے آگاہ کیا۔
اجلاس کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، حکمران جماعت اور اپوزیشن کے مابین کشیدگی اور جے یو آئی کے مصالحتی کردار پر بھی سیرحاصل گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعلان کیا۔
مفتی عبید اللہ، مفتی فضل غفور، مولانا عبد الحسیب، عبد الجلیل جان اور مفتی ناصر محمود سمیت دیگر اہم رہنماؤں نے اجلاس میں شرکت کی اور موجودہ سیاسی بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے کسی بھی رکن کو تنظیمی سطح پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس میں مدارس دینیہ کو دہشت گردی سے جوڑنے والے بیانات کو حقائق کے منافی اور انتہائی افسوسناک قرار دیا گیا۔ رہنماؤں نے مشیر اطلاعات کو غیر ذمہ دارانہ اور متنازع بیانات سے گریز کرنے کا پرزور مشورہ دیا تاکہ سیاسی فضا بہتر رہے۔
اجلاس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دینی مدارس نے ہمیشہ امن کے فروغ، رواداری اور ریاست کی بقا کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ملک بھر میں سینکڑوں علمائے کرام نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور جام شہادت نوش کیا۔
مشیر اطلاعات کے حالیہ بیانات کو شہداء کی قربانیوں کو سبوتاژ کرنے اور قوم کی نظروں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش قرار دیا گیا۔ رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دینی اداروں کی خدمات کو کسی بھی سطح پر متنازع بنانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔
اجلاس میں اس بات پر بھی شدید افسوس کا اظہار کیا گیا کہ کچھ مخصوص عناصر اور سوشل میڈیا پر موجود زر خرید وی لاگرز ایکا ایک جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے جماعت اور قائد مولانا فضل الرحمان کے خلاف کردار کشی کی مہم چلا رہے ہیں۔
مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے پھیلائے جانے والے اس جھوٹے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ایسے ہتھکنڈوں سے جمعیت علماء اسلام کے جرات مندانہ اور متحرک سیاسی کردار کو ہرگز مسخ نہیں کیا جا سکتا۔
پارٹی قیادت کا مؤقف تھا کہ جمعیت علماء اسلام کی میڈیا ٹیم نے اس سے قبل بھی مخالفین کے تمام جھوٹے پروپیگنڈے کو دفن کیا ہے اور اس بار بھی اس منفی مہم کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آئے۔
صوبائی سطح پر تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال بنانے کے لیے مختلف اضلاع اور تحصیلوں کے امور کا جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے مفتی عبید اللہ اور بیرسٹر عماد ایڈوکیٹ پر مشتمل ایک دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
یہ تحقیقاتی کمیٹی زمینی حقائق کا احاطہ کرتے ہوئے اپنی رپورٹ صوبائی قیادت کو پیش کرے گی تاکہ پارٹی کے اندر کسی بھی قسم کی غفلت یا ناپسندیدہ سرگرمی کا بروقت نوٹس لیا جا سکے۔ پارٹی نظم و ضبط کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر ملک میں آئین کی بالادستی، حقیقی جمہوریت کے استحکام اور دینی اقدار کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد پوری عزم کے ساتھ جاری رکھنے کا اعادہ کیا گیا۔ تمام کارکنان کو موجودہ حالات میں باخبر اور متحرک رہنے کی خصوصی ہدایت کی گئی۔




اپنی رائے دیں