مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 4:17
بریکنگ
کراچی: نجی ہسپتال کے آلات سے نومولود میں ایم پاکس کی تصدیق، ہسپتال سیلپنجاب حکومت کا آذربائیجانی خاتون زیادتی کیس خود لڑنے کا فیصلہدہشت گردی قومی مسئلہ ہے، سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر تعاون کیا جائے: وفاقی وزراءکراچی میں آن لائن فحش مواد کی تیاری اور فراڈ میں ملوث 3 کمپنیاں بے نقابڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیخلاف بڑے آپریشن کی دھمکی، پاک بھارت جنگ رکوانے کا دعویٰمیاں عامر کی پی سی بی اور ایچ ای سی کو ٹیلنٹ ہنٹ میں تعاون کی پیشکشبیوی پر تشدد اور زیور بیچنے کا کیس، اسسٹنٹ کمشنر جیل منتقلکراچی ایئرپورٹ پر کارروائی، عمرہ ویزے کا غلط استعمال کرنے والے 5 مسافر گرفتارمیر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر پولیس افسران کے خلاف کارروائی شروعسپریم کورٹ: قتل کیس کے ملزم کی قبل از وقت رہائی قانون کے خلاف قرارصوابی میں علماء و مشائخ کا پاک فوج اور حکومت سے بھرپور یکجہتی کا اعلانایران پر نیا حملہ کشیدگی بڑھا دے گا، ترک وزیرِ خارجہ کا انتباہبرطانیہ میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے نئی قومی مہم کا آغازپنشن ملازم کا قانونی اور آئینی حق ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہچین نے خلا میں ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس کے دو نئے گروپ روانہ کر دیےاسلام آباد ہائیکورٹ کا سرکاری ملازم کو پنشن کی ادائیگی کا حکمسندھ ہائی کورٹ: 15 ارب روپے سے زائد کے فراڈ کیس میں ڈی جی نیب طلببچے پر تشدد کرنے والے ٹیچر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکمجے یو آئی خیبرپختونخوا کا ایڈوائزری کونسل ارکان کو شوکاز نوٹسملتان میں ریلوے ٹریک پر ہینڈز فری استعمال کرنے والے 2 نوجوان ٹرین کی زد میں آ کر جاں بحق
دنیا

ایران پر نیا حملہ کشیدگی بڑھا دے گا، ترک وزیرِ خارجہ کا انتباہ

ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ سفارت کاری اور مذاکرات ہیں۔

ایران پر نیا حملہ کشیدگی بڑھا دے گا، ترک وزیرِ خارجہ کا انتباہ

استنبول میں منعقدہ ایک اہم بین الاقوامی اجلاس کے دوران ترکی کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے ایران پر کسی بھی ممکنہ نئے حملے کے خلاف شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کسی بھی غیر سنجیدہ اقدام سے خطے میں جاری کشیدگی میں خطرناک حد تک مزید اضافہ ہو جائے گا۔

ترک وزیرِ خارجہ کے مطابق اس قسم کی کارروائیوں سے خطے میں جاری تنازع نہ صرف سنگین رخ اختیار کر لے گا بلکہ یہ طویل عرصے تک طول بھی پکڑ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ صرف اور صرف سفارت کاری اور بامقصد مذاکرات ہیں۔

استنبول میں ہونے والے اس مشاورتی اجلاس میں پاکستان، مصر، سعودی عرب، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور اٹلی کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی تھی۔ اس اعلیٰ سطح کے اجتماع کے دوران خطے کی تازہ ترین سکیورٹی صورتِ حال اور اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کا بنیادی فوکس ایران کے اردگرد جاری کشیدگی، یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کے معاملات اور یوکرین میں جاری جنگ کے اثرات پر تھا۔ تمام شریک ممالک نے خطے میں امن و امان کی بحالی اور مزید بگاڑ کو روکنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔

اجلاس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترک وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ تمام شریک ممالک اس نکتہ پر مکمل طور پر متفق ہیں کہ ایران پر نیا حملہ تباہ کن ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی ہرگز مسئلے کا حل فراہم نہیں کر سکتی۔

حاقان فیدان نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ اس اہم اجلاس میں شریک کوئی بھی ملک ایران پر کسی قسم کے نئے فوجی حملے یا بیرونی مداخلت کی حمایت نہیں کرتا ہے۔ تمام نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے فوری طور پر موثر لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا۔

اجلاس کے شرکا نے اس امر پر اتفاق کیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران خطے کے غریب عوام اور معیشتوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بن رہا ہے۔ اس تنازع کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کو اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مزید تباہی کو روکا جا سکے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں شریک تمام وزرائے خارجہ نے اس بات کو سراہا کہ بات چیت کے ذریعے ہی تمام فریقین اپنے تحفظات کو دور کر سکتے ہیں۔ فوجی طاقت کے استعمال سے خطے میں عدم استحکام بڑھے گا جو کسی بھی فریق کے حق میں بہتر ثابت نہیں ہو گا۔

ترکی اور دیگر دوست ممالک خطے میں جنگ کے بادل چھٹنے اور سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اس نوعیت کے مشاورتی اجلاس اس بات کی علامت ہیں کہ عالمی رہنما خطے کو ایک اور بڑی جنگ سے بچانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔

موجودہ عالمی حالات کے پیشِ نظر ترکی کا یہ موقف خطے میں امن کی کوششوں کو تقویت دینے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان سمیت دیگر شریک ممالک نے بھی اس خطے میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اجلاس کے دوران اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا کہ کس طرح جنگ کے اثرات کو دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑنے سے روکا جائے۔ توانائی کی سپلائی لائنز اور تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی اہم تجاویز زیرِ غور آئیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

خطے کے تمام اسٹیک ہولڈرز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ باہمی مشاورت کے عمل کو مستقبل میں بھی جاری رکھیں گے۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے مشترکہ سفارتی حکمتِ عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ امن کا تسلسل برقرار رہے۔

بین الاقوامی سطح پر ترکی کی یہ سفارتی کوششیں انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہیں کیونکہ موجودہ بحران کے حل کے لیے تمام اہم دارالحکومتوں کے درمیان رابطے تیز ہو چکے ہیں۔ اجلاس کے شرکا نے امید ظاہر کی کہ سفارتی مساعی کے ذریعے خطے میں مستقل امن کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں