وفاقی تحقیقاتی ادارے کے امیگریشن عملے نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے عمرہ ویزوں کا غلط استعمال کر کے غیر قانونی طور پر بیرون ملک سفر کرنے اور مختلف ممالک سے ڈی پورٹ ہونے والے پانچ مسافروں کو حراست میں لے لیا ہے۔
ابتدائی قانونی کارروائی اور تفتیش کے عمل کو آگے بڑھانے کی غرض سے تمام گرفتار شدگان کو متعلقہ اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ اس گھنائونے دھندے میں ملوث عناصر کا سراغ لگایا جا سکے۔
ایف آئی اے کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پہلی کارروائی کے دوران شمالی قبرص سے ڈی پورٹ ہو کر کراچی پہنچنے والے چار مسافروں کو ایئرپورٹ پر اترتے ہی حراست میں لے لیا گیا۔
حراست میں لیے جانے والے ان چاروں مسافروں میں محمد یاسین، ملک سبحان، عبداللہ خان اور عبدالباسط کے نام شامل ہیں جن سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی تفتیشی عمل کے دوران یہ اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ یہ تمام افراد پاکستان سے باقاعدہ طور پر عمرہ ویزے حاصل کر کے سعودی عرب گئے تھے لیکن وہاں ان کی منزل بدل گئی۔
سعودی عرب پہنچنے کے بعد انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر اور ایجنٹوں نے مبینہ طور پر انہیں اسٹڈی ویزے پر شمالی قبرص روانہ کرنے کا غیر قانونی بندوبست کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق اس مکروہ دھندے میں ملوث ایجنٹوں نے اسٹڈی ویزوں اور جعلی سفری دستاویزات کی فراہمی کے نام پر ان مسافروں سے لاکھوں روپے کی بھاری رقم بٹوری تھی۔
تاہم جب یہ مسافر شمالی قبرص کی سرزمین پر پہنچے تو وہاں موجود تعلیمی اداروں کے داخلہ خطوط کی تصدیق نہ ہو سکی جس پر وہاں کے امیگریشن حکام نے ان کا داخلہ سرے سے مسترد کر دیا۔
غیر قانونی داخلے کی کوشش اور جعلی دستاویزات سامنے آنے پر مقامی حکام نے انہیں حراست میں لے لیا اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں پاکستان ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
ایف آئی اے امیگریشن نے کراچی ایئرپورٹ پر ہی دوسری کارروائی کرتے ہوئے الجزائر سے ایمرجنسی پاسپورٹ پر وطن واپس پہنچنے والے ایک اور مسافر کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا۔
ترجمان کے مطابق اس دوسرے واقعے میں گرفتار ہونے والے مسافر کا نام امام الدین ہے جو ابتدائی طور پر عمرہ ویزے پر ہی سعودی عرب کے سفر پر روانہ ہوا تھا۔
سعودی عرب میں موجود ایک مبینہ ایجنٹ حیدر علی نے اس مسافر کو پندره لاکھ روپے کے عوض یورپ بھجانے کا جھانسہ دیا اور اسی رقم کے عوض اسے غیر قانونی طور پر لیبیا روانہ کر دیا۔
لیبیا سے غیر قانونی طریقے سے سمندری یا زمینی راستے کے ذریعے الجزائر میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس مسافر کو دبوچ لیا تھا۔
گرفتاری کے بعد موصوف کو تقریباً دس ماہ تک غیر قانونی قید و بند کی صعوبتیں جھیلنا پڑیں اور بالآخر الجزائر کے حکام نے اسے ڈی پورٹ کر کے پاکستان روانہ کر دیا۔
ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام نے پانچوں مسافروں کو باضابطہ طور پر تحویل میں لے کر اس نیٹ ورک کی پشت پناہی کرنے والے بین الاقوامی ایجنٹوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے اس بین الاقوامی نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔





اپنی رائے دیں