اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین دہائیوں تک سرکاری محکموں میں خدمات سر انجام دینے والے ملازم نوید اللہ کو پنشن اور تمام ریٹائرمنٹ مراعات فوری طور پر ادا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
عدالت عالیہ کے جج جسٹس شاہ رخ ارجمند نے اس اہم مقدمے کا تحریری فیصلہ جاری کیا ہے جس میں وزارتِ خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو احکامات پر من و عن عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ درخواست گزار نے طویل عرصہ تک سرکاری خدمت میں گزارا ہے لہذا اسے اس کے جائز قانونی حقوق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا اور تمام کارروائی مقررہ مدت میں مکمل کی جائے۔
عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں اس بات پر زور دیا ہے کہ پنشن کسی بھی طور پر کوئی خیرات، رعایت یا احسان نہیں ہے بلکہ یہ ملازم کا بنیادی آئینی اور قانونی حق ہے۔
جسٹس شاہ رخ ارجمند نے قرار دیا کہ پنشن اصل میں ملازمت کے دوران کی جانے والی محنت کا مؤخر شدہ معاوضہ ہوتی ہے جو ملازم کو بڑھاپے کے ایام میں مالی تحفظ فراہم کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہے۔
وزارتِ خزانہ کی طرف سے عدالت میں یہ مؤقف اپنایا گیا تھا کہ سال 2008 کے دوران کی جانے والی کنٹریکٹ تعیناتی وفاقی پبلک سروس کمیشن کے توسط سے عمل میں نہیں آئی تھی۔
تاہم عدالت نے اس عذر کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ بھرتی کا باضابطہ طریقہ کار طے کرنا اور متعلقہ کیس ایف پی ایس سی کو بھیجنا متعلقہ ادارے کی اپنی ذمہ داری تھی۔
عدالت نے مزید کہا کہ اگر ادارے کی طرف سے انتظامی سطح پر کوئی کوتاہی برتی گئی ہے تو اس کی سزا یا نقصان کا ملبہ کسی صورت میں غریب ملازم پر نہیں ڈالا جا سکتا۔
فیصلے میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک ملازم کی مسلسل سروس کو تسلیم کرنے کے بعد اب ریٹائرمنٹ کے موقع پر پنشن روکنا صریحاً غیر قانونی ہے۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ملازم کی کنفرمیشن، ریگولرائزیشن اور گریڈ سترہ کی منظوری سے متعلق تمام پچھلے احکامات کو سامنے رکھتے ہوئے پنشن کیس جلد از جلد نمٹایا جائے۔
مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار نوید اللہ نے اٹھائیس مئی سنہ انیس سو پچانوے کو وزارتِ خوراک و زراعت میں گریڈنگ انسپکٹر کے طور پر سرکاری کیریئر کا آغاز کیا تھا۔
اس کے بعد سولہ اگست سنہ انیس سو ستانوے کو ان کی سرکاری خدمات کو باضابطہ طور پر مستقل کر دیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے مختلف ذمہ داریاں نبھائیں۔
ملک میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد موصوف کی خدمات سنٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز کے سپرد کر دی گئی تھیں جہاں انہوں نے مزید فرائض انجام دیے۔
کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے ایک فیصلے کی روشنی میں انہیں سال دو ہزار بارہ میں ریگولرائز کیا گیا اور پھر دو ہزار پندرہ میں نیشنل سیونگز میں باقاعدہ مستقل کر دیا گیا۔
درخواست گزار نوید اللہ نے تقریبا تیس برس کی طویل ترین سروس کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے بعد بائیس اپریل دو ہزار پچیس کو سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ حاصل کی تھی۔
ریٹائرمنٹ کے طویل عرصے کے باوجود پنشن اور دیگر مالی واجبات کی عدم ادائیگی کی صورتحال پر مجبور ہو کر ملازم نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے دروازے پر دستک دی تھی۔
عدالت نے فیصلے کی تصدیق شدہ نقل موصول ہونے کے بعد سے اگلے تیس دنوں کے اندر اندر تمام تر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ادائیگی کا عمل مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔





اپنی رائے دیں