مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 3:37
بریکنگ
کراچی: نجی ہسپتال کے آلات سے نومولود میں ایم پاکس کی تصدیق، ہسپتال سیلپنجاب حکومت کا آذربائیجانی خاتون زیادتی کیس خود لڑنے کا فیصلہدہشت گردی قومی مسئلہ ہے، سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر تعاون کیا جائے: وفاقی وزراءکراچی میں آن لائن فحش مواد کی تیاری اور فراڈ میں ملوث 3 کمپنیاں بے نقابپاک بھارت جنگ رکوانا میرے لیے اعزاز ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰمیر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر پولیس افسران کے خلاف کارروائی شروعسپریم کورٹ: قتل کیس کے ملزم کی قبل از وقت رہائی قانون کے خلاف قرارصوابی میں علماء و مشائخ کا پاک فوج اور حکومت سے بھرپور یکجہتی کا اعلانایران پر نیا حملہ کشیدگی بڑھا دے گا، ترک وزیرِ خارجہ کا انتباہبرطانیہ میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے نئی قومی مہم کا آغازپنشن ملازم کا قانونی اور آئینی حق ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہچین نے خلا میں ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس کے دو نئے گروپ روانہ کر دیےاسلام آباد ہائیکورٹ کا سرکاری ملازم کو پنشن کی ادائیگی کا حکمسندھ ہائی کورٹ: 15 ارب روپے سے زائد کے فراڈ کیس میں ڈی جی نیب طلببچے پر تشدد کرنے والے ٹیچر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکمجے یو آئی خیبرپختونخوا کا ایڈوائزری کونسل ارکان کو شوکاز نوٹسملتان میں ریلوے ٹریک پر ہینڈز فری استعمال کرنے والے 2 نوجوان ٹرین کی زد میں آ کر جاں بحقلاہور: بچوں کو سوشل میڈیا پر بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتارلاہور کے علاقے گارڈن ٹاؤن میں 9 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کی تصدیقعالمی تنازعات سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے: وزیر خزانہ
پاکستان

اسلام آباد ہائیکورٹ کا سرکاری ملازم کو پنشن کی ادائیگی کا حکم

عدالت نے قرار دیا ہے کہ پنشن ملازم کا قانونی اور آئینی حق ہے جسے روکا نہیں جا سکتا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا سرکاری ملازم کو پنشن کی ادائیگی کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین دہائیوں تک سرکاری محکموں میں خدمات سر انجام دینے والے ملازم نوید اللہ کو پنشن اور تمام ریٹائرمنٹ مراعات فوری طور پر ادا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

عدالت عالیہ کے جج جسٹس شاہ رخ ارجمند نے اس اہم مقدمے کا تحریری فیصلہ جاری کیا ہے جس میں وزارتِ خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو احکامات پر من و عن عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ درخواست گزار نے طویل عرصہ تک سرکاری خدمت میں گزارا ہے لہذا اسے اس کے جائز قانونی حقوق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا اور تمام کارروائی مقررہ مدت میں مکمل کی جائے۔

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں اس بات پر زور دیا ہے کہ پنشن کسی بھی طور پر کوئی خیرات، رعایت یا احسان نہیں ہے بلکہ یہ ملازم کا بنیادی آئینی اور قانونی حق ہے۔

جسٹس شاہ رخ ارجمند نے قرار دیا کہ پنشن اصل میں ملازمت کے دوران کی جانے والی محنت کا مؤخر شدہ معاوضہ ہوتی ہے جو ملازم کو بڑھاپے کے ایام میں مالی تحفظ فراہم کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہے۔

وزارتِ خزانہ کی طرف سے عدالت میں یہ مؤقف اپنایا گیا تھا کہ سال 2008 کے دوران کی جانے والی کنٹریکٹ تعیناتی وفاقی پبلک سروس کمیشن کے توسط سے عمل میں نہیں آئی تھی۔

تاہم عدالت نے اس عذر کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ بھرتی کا باضابطہ طریقہ کار طے کرنا اور متعلقہ کیس ایف پی ایس سی کو بھیجنا متعلقہ ادارے کی اپنی ذمہ داری تھی۔

عدالت نے مزید کہا کہ اگر ادارے کی طرف سے انتظامی سطح پر کوئی کوتاہی برتی گئی ہے تو اس کی سزا یا نقصان کا ملبہ کسی صورت میں غریب ملازم پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

فیصلے میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک ملازم کی مسلسل سروس کو تسلیم کرنے کے بعد اب ریٹائرمنٹ کے موقع پر پنشن روکنا صریحاً غیر قانونی ہے۔

عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ملازم کی کنفرمیشن، ریگولرائزیشن اور گریڈ سترہ کی منظوری سے متعلق تمام پچھلے احکامات کو سامنے رکھتے ہوئے پنشن کیس جلد از جلد نمٹایا جائے۔

مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار نوید اللہ نے اٹھائیس مئی سنہ انیس سو پچانوے کو وزارتِ خوراک و زراعت میں گریڈنگ انسپکٹر کے طور پر سرکاری کیریئر کا آغاز کیا تھا۔

اس کے بعد سولہ اگست سنہ انیس سو ستانوے کو ان کی سرکاری خدمات کو باضابطہ طور پر مستقل کر دیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے مختلف ذمہ داریاں نبھائیں۔

ملک میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد موصوف کی خدمات سنٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز کے سپرد کر دی گئی تھیں جہاں انہوں نے مزید فرائض انجام دیے۔

کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے ایک فیصلے کی روشنی میں انہیں سال دو ہزار بارہ میں ریگولرائز کیا گیا اور پھر دو ہزار پندرہ میں نیشنل سیونگز میں باقاعدہ مستقل کر دیا گیا۔

درخواست گزار نوید اللہ نے تقریبا تیس برس کی طویل ترین سروس کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے بعد بائیس اپریل دو ہزار پچیس کو سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ حاصل کی تھی۔

ریٹائرمنٹ کے طویل عرصے کے باوجود پنشن اور دیگر مالی واجبات کی عدم ادائیگی کی صورتحال پر مجبور ہو کر ملازم نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے دروازے پر دستک دی تھی۔

عدالت نے فیصلے کی تصدیق شدہ نقل موصول ہونے کے بعد سے اگلے تیس دنوں کے اندر اندر تمام تر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ادائیگی کا عمل مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں