کراچی: میر رضا علی قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کی سفارشات اور کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں محکمہ داخلہ سندھ نے بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس ضمن میں متعلقہ اداروں کو احکام جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ کمیشن کے مشاہدات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت سندھ نے اس سنگین معاملے کی تہہ تک پہنچنے اور شفاف تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
کمیشن کی رپورٹ کے بعد محکمہ داخلہ نے سیکرٹری صحت کو بھی ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے جس میں ڈاکٹر اسامہ شیخ کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور دو سالہ تربیت پر بھیجنے کی تجویز دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ ذمہ داران کے خلاف قانونی تقاضے پورے کیے جائیں تاکہ آئندہ اس قسم کی غفلت کا اعادہ نہ روکا جا سکے اور متاثرہ فریق کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔
تحقیقاتی عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کی غرض سے وفاقی وزارت داخلہ کو ایک اور خط ارسال کیا گیا ہے۔ اس خط میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے کسی سینئر گریڈ بیس یا اس سے اوپر کے افسر کو انکوائری کمیٹی کا سربراہ نامزد کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس مجوزہ کمیٹی میں ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ اور ڈی آئی جی نعیم احمد شیخ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار علی لاڑک پر مشتمل ایک رکنی انکوائری کمیٹی کا باضابطہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں نامزد کیے گئے تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کے انفرادی کردار کا گہرائی سے جائزہ لے گی۔ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ اس ایک رکنی انکوائری کمیٹی کے امور میں معاونت فراہم کریں گے تاکہ تمام شواہد کا باریک بینی سے احاطہ کیا جا سکے۔
تشکیل دی گئی اس کمیٹی کے دائرہ کار میں چار اہم ٹرمز آف ریفرنس شامل کیے گئے ہیں۔ ان ٹی او آرز کے تحت نامزد افسران و اہلکاروں کی مجموعی پولیسنگ کارکردگی، مخصوص مشاہدات کی روشنی میں ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا تعین کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ جائے وقوعہ کو جلائے جانے کے واقعے میں انسپکٹر غوث کے مبینہ کردار کی مزید تحقیقات کر کے رپورٹ انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ کو پیش کی جائے گی۔
جوڈیشل کمیشن کے مشاہدات کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کی طرف سے کوئی قابل ذکر کوتاہی ریکارڈ پر نہیں آئی، تاہم تفتیشی ٹیم کے ارکان نے انہیں مایوس کیا۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے اس نتیجے پر اتفاق کیا ہے کہ ان کے خلاف مزید تادیبی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان کا ذاتی کردار اس ضمن میں محدود رہا تھا۔
ڈی آئی جی عامر فاروقی کے حوالے سے کمیشن نے نوٹ کیا کہ وہ بلاشبہ ایک قابل افسر ہیں لیکن انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے مطابق نتائج فراہم نہیں کیے۔ ان کا نقطہ نظر غیر جامع پایا گیا جبکہ کچھ امور میں پیشہ ورانہ غفلت بھی سامنے آئی جہاں انہوں نے تفتیش کی اصل ذمہ داری خود اٹھانے کے بجائے دوسروں پر چھوڑ دی اور سینئر افسران کو ہی سوال نامے بھیجے۔
کمیشن نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی فرخ لنجار مناسب انداز میں کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے اور ان کے جوابات انتہائی مبہم اور روایتی نوعیت کے تھے۔ اگر حقائق سامنے آنے کے بعد بھی متعلقہ افسران اپنی تفتیش سے مطمئن ہیں تو یہ انتظامیہ کے لیے تشویشناک امر ہے۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے ان تمام مشاہدات کو متعلقہ افسران تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈی آئی جی فرخ لنجار کے بارے میں کمیشن نے رپورٹ کیا کہ ان میں بحیثیت سربراہ قائدانہ صلاحیتوں اور نگرانی کا فقدان واضح طور پر دکھائی دیا۔ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو سے متعلق بھی یہی مشاہدات سامنے آئے کہ انہوں نے مقدمے کے قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا، تاہم انہوں نے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کیا جس پر ان کی تربیت کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔
ایس ایچ او عدیل افضل پر مجرمانہ غفلت برتنے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور سفارش کی گئی ہے کہ ان کے خلاف سخت محکمانہ انکوائری کے ذریعے انہیں برطرف کیا جائے۔ انہیں عبوری طور پر معطل کر کے یہ تفتیش کی جائے گی کہ آیا انہوں نے اہم شواہد کو تلف کرنے میں کسی قسم کی سہولت کاری کی تھی یا نہیں۔
سب انسپکٹر شبیر لغاری کے خلاف بھی مجرمانہ غفلت پر سخت محکمانہ کارروائی اور برطرفی کی سفارش کی گئی ہے جبکہ ایس ایچ او کامران قریشی کے غیر پیشہ ورانہ رویے پر انہیں عہدے سے ہٹا کر معطل کر دیا گیا ہے۔ کامران قریشی اور دیگر متعلقہ اہلکاروں کے خلاف ایف آئی اے کے سربراہ کی زیر قیادت کمیٹی مزید تفتیش کرے گی۔
ڈی ایس پی سراج لاشاری کے بارے میں کہا گیا کہ وہ بظاہر اچھے افسر ہیں لیکن اس مقدمے میں انہوں نے اہم سراغ نظر انداز کیے اور روایتی طریقوں کو جواز بنایا۔ اے ایس پی ندا جنید کے غیر پیشہ ورانہ رویے پر ان سے وضاحت طلب کی جائے گی اور ایک شخص کے ساتھ ان کے روابط کی بھی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
کمیشن نے انسپکٹر غوث کو بھی معطل کر کے جائے وقوعہ جلانے کے واقعے پر مزید تحقیقات کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب، ہیڈ محرر ذیشان اور کانسٹیبل محمد عارف کی کارکردگی کو سراہا گیا ہے جنہوں نے دیانت داری سے فرائض انجام دے کر محکمہ پولیس کا نام روشن کیا اور ان کی پیشہ ورانہ تربیت کا انتظام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔





اپنی رائے دیں