مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 7:38
بریکنگ
پنجاب حکومت کا آذربائیجانی خاتون زیادتی کیس خود لڑنے کا فیصلہدہشت گردی قومی مسئلہ ہے، سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر تعاون کیا جائے: وفاقی وزراءکراچی میں آن لائن فحش مواد کی تیاری اور فراڈ میں ملوث 3 کمپنیاں بے نقابپاک بھارت جنگ رکوانا میرے لیے اعزاز ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰایران کا کسی بھی جارحیت کی صورت میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا انتباہاردن کے علاقے کرک میں چرچ پر حملہ، جنازے کے دوران فائرنگ سے 7 افراد جاں بحقلاہور: مزنگ میں طالبہ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار، مقدمہ درجماسکو: ڈرون حملوں کے خطرے کے باعث فضائی آپریشن متاثر، پابندیاں ختمحکومت نے پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل مہنگا کر دیاملتان: شوہر اور بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والی خاتون سے زیادتی کا واقعہصدر آصف علی زرداری کا دورہ جرمنی: گارڈ آف آنر پیش، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیالوفاقی حکومت کی جانب سے اہم افسران کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاریوزیراعظم شہباز شریف کی صدر آزاد کشمیر سے ملاقات، کشمیریوں کی حمایت کے عزم کا اعادہپنجاب میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی فروخت پر پابندی عائد، 10 کلو کا تھیلا دستیاب ہوگابلوچستان میں چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹیپاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی، ورلڈ بینک کی تشویشناک رپورٹمہمند ڈیم کی لاگت میں 666 ارب روپے تک اضافہ، منظوری کا عمل شروعمتحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کیلئے ای پاسپورٹ کا اجرا، فیسیں مقررٹھٹھہ کا تاریخی مکلی قبرستان: سندھ کی تہذیب و ثقافت کا عظیم ورثہڈیانا زیادتی کیس: ملزم تنویر کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع
کاروبار

پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی، ورلڈ بینک کی تشویشناک رپورٹ

عالمی بینک نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے سالانہ 36 لاکھ ملازمتیں پیدا کرنے میں ناکامی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی، ورلڈ بینک کی تشویشناک رپورٹ

ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں غربت کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق غربت کی شرح جو 2019 میں 22 فیصد تھی، اب بڑھ کر 29 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

عالمی ادارے نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو ہر سال 36 لاکھ نئے افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد کے لیے ملازمتوں کی عدم دستیابی معاشی چیلنجوں میں اضافے کا باعث ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں معاشی ترقی کی شرح صرف 2 فیصد رہی، جبکہ سالانہ شرح نمو 3.65 فیصد تک محدود رہی۔ اس دوران عام پاکستانی کی فی کس آمدن میں اضافہ بھی انتہائی معمولی یعنی صرف 1.6 فیصد تک رہا ہے۔

مہنگائی کے حوالے سے ورلڈ بینک نے نشاندہی کی ہے کہ اگست 2026 میں مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درآمدات میں اضافے کے باعث تجارتی خسارہ برقرار ہے اور بیرون ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر معیشت کے لیے اہم سہارا بنی ہوئی ہیں۔

عالمی بینک نے پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مارکیٹ کے مطابق لچکدار شرح تبادلہ کی پالیسی اپنائے اور روپے کی قدر کے تعین کے لیے مزید اقدامات کرے۔ ادارے نے معاشی استحکام کے حصول کے لیے فوری اور ٹھوس اصلاحات پر زور دیا ہے۔

مستقبل کے حوالے سے پیشگوئی کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ مالی سال میں معاشی ترقی 3.8 فیصد اور انتخابی سال میں 4.4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ تاہم بڑے پیمانے پر معاشی اصلاحات نافذ کرنے سے یہ شرح 6.2 سے 6.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

رپورٹ میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پاکستان کی معیشت پر اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ عالمی ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خطے کی صورتحال کے باعث پاکستان کے درآمدی بل میں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی اور تجارتی خسارے پر دباؤ بڑھے گا۔

دوسری جانب قومی اکاؤنٹس کمیٹی نے گزشتہ پانچ مالی سالوں کے درآمدی اعداد و شمار پر نظر ثانی کی منظوری دی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں درآمدات کے تخمینے میں 14.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس سے قومی آمدن اور فی کس آمدن کے اعداد و شمار بھی متاثر ہوں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی استحکام کے لیے برآمدات میں اضافہ اور درآمدات کو محدود کرنا ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صنعتی شعبے کو فروغ دے تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکیں اور غربت کی شرح میں کمی لائی جا سکے۔

پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ ورلڈ بینک کی یہ رپورٹ حکومتی حلقوں کے لیے ایک اہم اشارہ ہے کہ معاشی اصلاحات میں تاخیر ملکی ترقی کی رفتار کو مزید سست کر سکتی ہے۔

ملک میں جاری مہنگائی اور بیروزگاری کے تناظر میں عوام کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے وقت میں معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس سے سماجی ڈھانچے پر اثر پڑے گا۔

حکومت کی جانب سے معاشی بہتری کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم عالمی اداروں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار زمینی حقائق کی عکاسی کرتے ہیں۔ اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد ہی معیشت کو مستحکم کرنے کا واحد راستہ دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک زرعی اور صنعتی پیداوار پر ہے۔ ان شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور سرمایہ کاری کو فروغ دے کر ہی ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکتا ہے اور غربت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

کاروبار کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں