لاہور میں بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان پر ہونے والے تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس تناظر میں حالیہ دنوں میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا جس نے والدین اور سول سوسائٹی کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
معصوم طالب علم کو اسکول کے اندر بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنانے والے استاد کی گھناؤنی حرکت پر ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ اس قسم کے واقعات تعلیمی اداروں کے بنیادی مقاصد اور ماحول پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر ابھرتے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بروقت کارروائی عمل میں لائی اور بچے پر تشدد کرنے والے اسکول ٹیچر کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اسے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے تمام ضروری مراحل شروع کر دیے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس اندوہناک واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملزم استاد کی گرفتاری کی تصویر اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی۔ انہوں نے اس موقع پر اپنے پیغام میں بچوں پر تشدد کرنے والے عناصر کے خلاف انتہائی سخت موقف اپناتے ہوئے اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا۔
صوبائی دارالحکومت میں بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں حکومتی سطح پر یہ عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ معصوم بچوں کے خلاف اس قسم کی بربریت کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے پیغام میں سختی سے ہدایت جاری کی کہ اس نوعیت کے مجرموں کے ساتھ کوئی نرمی نہ برتی جائے۔
مریم نواز نے اپنے جاری کردہ پیغام میں اسکول ٹیچر کی اس سفاکانہ حرکت پر کڑے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ بچے پر تشدد کرنے والے ایسے افراد عبرت کا نشان بننے چاہیے۔ انہوں نے یہاں تک ہدایت دی کہ اس کے چہرے پر جوتے مارے جائیں تاکہ اس پر واضح نشان پڑ جائیں۔
حکومت پنجاب کی جانب سے اس واقعے پر سامنے آنے والا یہ سخت ردعمل اس بات کا غماز ہے کہ صوبے میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ اسکولوں میں اساتذہ کی طرف سے بچوں پر ہاتھ اٹھانے کے کلچر کو ختم کرنے کے لیے اب انتظامی سطح پر بھی سخت گیر فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین تعلیم اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کو خوف اور تشدد سے پاک کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اساتذہ کا کام بچوں کی تربیت کرنا اور انہیں زیور علم سے آراستہ کرنا ہے نہ کہ انہیں جسمانی یا ذہنی اذیت دینا۔
والدین نے بھی حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے درندہ صفت اساتذہ کو ملازمت سے ہمیشہ کے لیے فارغ کیا جائے تاکہ وہ کسی اور معصوم کی زندگی تباہ نہ کر سکیں۔ تعلیمی اداروں میں اس طرح کے عناصر کی موجودگی معاشرے کے لیے ایک ناسور کی حیثیت رکھتی ہے۔
محکمہ تعلیم پنجاب کو بھی اس واقعے کے بعد مزید فعال کر دیا گیا ہے تاکہ وہ تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں اساتذہ کے رویوں کی کڑی مانیٹرنگ کریں۔ اس حوالے سے ایک نیا لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت اسکولوں میں جسمانی سزا پر مکمل پابندی کو سختی سے نافذ کیا جائے گا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم استاد کے خلاف درج کی جانے والی ایف آئی آر کے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں اور عدالت میں مضبوط چالان پیش کیا جائے گا۔ تفتیشی ٹیمیں اس بات کو یقینی بنا رہی ہیں کہ کیس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے تاکہ ملزم کو اس کے مکروہ فعل کی کڑی سزا مل سکے۔
سوشل میڈیا پر بھی عوام کی بڑی تعداد نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس سخت بیان اور فوری کارروائی کی بھرپور تائید کی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بچوں پر تشدد کرنے والوں کے ساتھ ایسا ہی عبرت ناک سلوک ہونا چاہیے تاکہ معاشرے میں قانون کا خوف پیدا ہو۔
حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور ریاست ان کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی۔ امن و امان کی مجموعی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ایسے فیصلے معاشرے میں ایک مثبت پیغام دیتے ہیں۔





اپنی رائے دیں