مواد پر جائیں
اتوار، 1 نومبر 2026 21 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
پاکستان نے عمان کو شکست دے کر ہانگ کانگ سکسز پلیٹ ٹائٹل جیت لیااپ ڈیٹ: مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی حملوں سے امریکی تنصیبات کو اربوں ڈالر کا نقصانالاسکا سینیٹ انتخاب: امیدواروں کے ناموں میں مماثلت پر تنازعہ شدت اختیار کر گیافخر زمان کی سنچری، پاکستان نے سہ فریقی سیریز کا ٹائٹل اپنے نام کر لیاپاکستان آرمی ڈرون ٹیکنالوجی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے: ڈی جی آئی ایس پی آرپاکستان کرکٹ بورڈ: سینٹرل کنٹریکٹس میں نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کرنے کا فیصلہحکومتی پالیسیوں سے کاٹن اسٹیک ہولڈرز میں مایوسی بڑھ گئی، کاٹن جنرز فورممنڈی بہاؤالدین: انسانی اسمگلنگ میں 16 سال سے مطلوب اشتہاری ملزم گرفتاربیرون ملک تعلیم کے حصول کے لیے جانے والے طلبہ بینک اکاؤنٹ کیسے کھولیں؟بھارتی گلوکار ہمیش ریشمیا کا بین الاقوامی البم کے لیے 15 انگریزی گانے تیار کرنے کا انکشافغزہ میں اسرائیلی ڈرون حملے، پولیس اہلکاروں سمیت 8 فلسطینی شہیدپشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت میں چیلنجلاہور سمیت پنجاب بھر میں موسم سرد ہونے لگا، درجہ حرارت میں کمیلاہور ایئرپورٹ: نیدرلینڈز کے جعلی ویزوں پر بیرون ملک جانے والے دو مسافر گرفتارپاکستان میں پولیو کا آٹھواں کیس رپورٹ، انسدادِ پولیو مہم 2 نومبر سے شروع ہوگیانقرہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی سربراہی پروفیسر ڈاکٹر آئیکت کشمیر کے سپردہاردک پانڈیا نے مسٹر بیسٹ کا بیس بال چیلنج جیت کر ایک لاکھ ڈالر انعام حاصل کر لیاخیبر پختونخوا: مخدوش اسکول عمارتوں سے طلبہ کی فوری منتقلی کا حکمپین پیسیفک اوپن: ڈیانا شنائیڈر نے لیلیٰ فرنینڈس کو شکست دے کر ٹائٹل جیت لیاملک بھر میں جعلی فلو ویکسین کی سپلائی کا انکشاف، ڈریپ کا الرٹ جاری
کراچی

کراچی: ناردرن بائی پاس پر کار پل سے نیچے جا گری، 5 نوجوان زخمی

تیز رفتاری کے باعث گاڑی بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری، زخمیوں کو طبی امداد کے لیے نجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کراچی: ناردرن بائی پاس پر کار پل سے نیچے جا گری، 5 نوجوان زخمی

کراچی کے علاقے ناردرن بائی پاس پر ایک افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے جس میں ایک تیز رفتار کار ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو کر پل سے نیچے جا گری۔ اس حادثے کے نتیجے میں گاڑی میں سوار پانچ نوجوان شدید زخمی ہوئے ہیں۔

واقعہ سعدی گارڈن کے قریب پیش آیا جہاں گاڑی کی رفتار زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈرائیور گاڑی پر اپنا کنٹرول برقرار نہ رکھ سکا۔ گاڑی پل کی حفاظتی دیوار سے ٹکرانے کے بعد نیچے جا گری، جس سے گاڑی کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور امدادی اداروں کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارروائیوں کے دوران چھیپا کے رضا کاروں نے زخمیوں کو گاڑی سے نکال کر طبی امداد کے لیے قریبی نجی ہسپتال منتقل کیا۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں میں ایک 12 سالہ لڑکا ثاقب بھی شامل ہے، جبکہ دیگر زخمیوں میں 17 سالہ زین، 22 سالہ مہران، 25 سالہ جنید اور 22 سالہ آفتاب شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی ابتدائی وجہ گاڑی کی تیز رفتاری معلوم ہوتی ہے تاہم واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ حادثے کے بعد علاقے میں ٹریفک کی روانی کچھ دیر کے لیے متاثر ہوئی جسے بعد ازاں بحال کر دیا گیا۔

ناردرن بائی پاس پر اس طرح کے حادثات اکثر پیش آتے رہتے ہیں جس کی بڑی وجہ سڑک پر گاڑیوں کی تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ یہاں حفاظتی اقدامات کو مزید بہتر بنایا جائے۔

ٹریفک پولیس نے ڈرائیوروں کو ہدایت کی ہے کہ شاہراہوں پر سفر کے دوران رفتار کو مقررہ حد کے اندر رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ تیز رفتاری نہ صرف ڈرائیور بلکہ دیگر مسافروں کی زندگیوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔

زخمی ہونے والے نوجوانوں کے اہل خانہ کو واقعے کی اطلاع دے دی گئی ہے اور ہسپتال میں ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد اب خطرے سے باہر قرار دیا جا رہا ہے۔

شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کے پیش نظر ٹریفک پولیس کی جانب سے آگاہی مہم بھی چلائی جا رہی ہے تاکہ حادثات کی شرح میں کمی لائی جا سکے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ڈرائیونگ کے دوران احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔

اس واقعے نے ایک بار پھر تیز رفتاری کے نقصانات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ حکام کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا پل کے اس حصے پر اضافی حفاظتی رکاوٹیں لگانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

پولیس نے حادثے کا مقدمہ درج کر کے واقعے کے عینی شاہدین کے بیانات بھی قلمبند کیے ہیں۔ حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی کو کرین کی مدد سے پل کے نیچے سے ہٹا دیا گیا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔

شہر کے دیگر مصروف راستوں پر بھی ٹریفک پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ گاڑیوں کی رفتار پر نظر رکھی جا سکے۔ انتظامیہ کا عزم ہے کہ سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

عوام سے بھی گزارش کی گئی ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں اور دورانِ سفر سیٹ بیلٹ کا استعمال یقینی بنائیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں امدادی اداروں کو فوری اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

کراچی کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں