حکومتِ پاکستان نے ملک میں آٹو سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور برآمدات میں نمایاں اضافے کے لیے ایک جامع نئی آٹو پالیسی تیار کر لی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اس پالیسی کے بنیادی خدوخال کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے بعد اب اسے حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
نئی پالیسی کا سب سے اہم پہلو آئندہ پانچ برسوں کے دوران گاڑیوں کی برآمدات کو 6 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کرنا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی صنعت کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے آٹو سیکٹر کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے۔
پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ 15 ہزار ڈالر سے کم مالیت کی چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد اور تیاری پر کم ٹیرف لاگو کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ عام آدمی کی پہنچ میں ماحول دوست گاڑیاں آ سکیں۔
الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کو آسان بنانے کے لیے فنانسنگ کی حد کو 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی فنانسنگ کی مدت کو بھی 3 سال سے بڑھا کر 5 سال تک کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ صارفین پر مالی بوجھ کم ہو۔
صنعت کے تحفظ اور ترقی کے لیے ایک ہزار سی سی سے زائد کی گاڑیوں پر 'آٹوموٹیو ڈویلپمنٹ لیوی' عائد کی جائے گی۔ اس لیوی کے ذریعے پانچ سالوں میں 232 ارب روپے سے زائد کی آمدنی متوقع ہے، جسے صنعتی ترقی اور برآمدی مراعات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے لیے بھی اہداف مقرر کیے گئے ہیں، جن کے تحت 2031 تک ان کی برآمدات کو 1.2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم کیا گیا ہے۔ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے لیے برآمدی اہداف کا حصول لازمی قرار دیا جائے گا۔
برآمدات کو فروغ دینے والی کمپنیوں کے لیے مراعات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ برآمدی مالیت کا 5 فیصد معاوضہ دینے کی تجویز ہے، جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافی برآمدات کرنے والی کمپنیوں کو مزید 10 فیصد مراعات فراہم کی جائیں گی۔
پالیسی میں کمپنیوں کے لیے سخت احتسابی عمل بھی شامل ہے۔ جو کمپنیاں مقررہ برآمدی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہیں گی، ان پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ مسلسل دو سال اہداف پورے نہ کرنے پر مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹ منسوخ کرنے کی شق بھی رکھی گئی ہے۔
آٹو سیکٹر میں شفافیت اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے سال میں دو مرتبہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان آٹوموٹیو ٹیسٹنگ انسٹی ٹیوٹ کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا تاکہ گاڑیوں کے معیار کو عالمی سطح پر تسلیم کرایا جا سکے۔
صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی نئی پالیسی میں اہم شقیں شامل کی گئی ہیں۔ آٹو کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں میں خریداروں کے تحفظ کی شرائط کو لازمی قرار دیا جائے گا تاکہ گاڑیوں کی ڈیلیوری اور معیار کے حوالے سے شکایات کا ازالہ ممکن ہو سکے۔
ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تحقیق کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں گے تاکہ مقامی سطح پر آٹو پارٹس کی تیاری میں جدت لائی جا سکے۔ اس کے علاوہ ہنرمند افرادی قوت کی تربیت کے لیے نئے تعلیمی اور تکنیکی اہداف بھی مقرر کیے جا رہے ہیں۔
حکومت کا یہ اقدام پاکستان میں آٹو انڈسٹری کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش ہے۔ اس پالیسی کے نفاذ سے نہ صرف ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے بلکہ پاکستان عالمی آٹو مارکیٹ میں بھی اپنی ایک الگ شناخت بنانے میں کامیاب ہو سکے گا۔
آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی کے نفاذ کے لیے قانونی سازی کا عمل دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ پالیسی طویل مدتی بنیادوں پر آٹو سیکٹر کو خود کفیل بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔





اپنی رائے دیں