مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 5:37
بریکنگ
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران: اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیالایم ڈی کیٹ نتائج اور سوالنامہ: پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلبحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہاسلام آباد میں این سی سی آئی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، 200 چینی باشندے گرفتاربرطانوی اداکار رسل برینڈ کے خلاف ریپ کے مقدمے کی سماعت جاریلاہور: ٹک ٹاکر خاتون پر تشدد کرنے والا ڈرائیور گرفتاربولی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر حملہ: اصل ہدف کوئی اور تھا، کرائم برانچ کا انکشافاسرائیلی قومی سلامتی کا نیا نقشہ: نیتن یاہو کی حکمت عملی پر سوالاتسعودی عرب میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر دو غیر ملکیوں کو سزائے موتعرفات منہاس کا انگلینڈ کیخلاف شاندار کارکردگی پر اہم اعزاز اپنے نامآن لائن فراڈ میں اضافہ: نوجوان نسل کو محتاط رہنے کی تنبیہسوشل میڈیا پر وائرل ‘اکتوبر تھیوری’ کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے؟امریکا کا نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں: وائٹ ہاؤسپاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون: خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم پیش رفتچین: 12ویں منزل کی کھڑکی سے لٹکتی 3 سالہ بچی کو ریسکیو کر لیا گیاپاکستانی کرکٹ میں بہتری: طویل مدتی اصلاحات کی ضرورتانگلینڈ کے خلاف فتح، حسن نواز کا عرفات منہاس کی شاندار کارکردگی پر اظہارِ خیالنئی آٹو پالیسی: 5 سال میں 6 ارب ڈالر کی گاڑیوں کی برآمد کا ہدف مقررروپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر مزید سستا، یورو اور برطانوی پاؤنڈ کی قیمت میں اضافہوالدہ کا شناختی کارڈ نہ ہونے پر بچے کا ب فارم کیسے بن سکتا ہے؟ نادرا کی وضاحت
کھیل

پاکستانی کرکٹ میں بہتری: طویل مدتی اصلاحات کی ضرورت

قومی کرکٹ کے معیار کو عالمی سطح پر لانے کے لیے سیاسی مداخلت کا خاتمہ اور میرٹ پر مبنی نظام کا قیام ناگزیر ہے۔

پاکستانی کرکٹ میں بہتری: طویل مدتی اصلاحات کی ضرورت

پاکستانی کرکٹ کو درپیش چیلنجز اور ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل کے فقدان پر کھیلوں کے حلقوں میں بحث جاری ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ محض کپتان یا بورڈ کے سربراہ کی تبدیلی سے نتائج میں بہتری ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے گہری اور ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میں سیاسی مداخلت ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔ پیٹرن ان چیف کے عہدے کے ذریعے سربراہ کی نامزدگی کا عمل بورڈ کی خودمختاری کو متاثر کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بورڈ کو ایک خود مختار ادارے کے طور پر چلایا جائے۔

بورڈ کا اپنا ایک مستحکم آئین ہونا چاہیے جس کے تحت ڈومیسٹک ریجنز اور کلبز کے منتخب نمائندے بورڈ آف گورنرز تشکیل دیں۔ اس سے سیاسی اثر و رسوخ ختم ہوگا اور ادارے کے معاملات میرٹ اور شفافیت کے اصولوں پر استوار ہو سکیں گے۔

ماضی میں اقربا پروری اور پسند ناپسند کی بنیاد پر کھلاڑیوں کے انتخاب نے ٹیم کو نقصان پہنچایا ہے۔ ٹیم کے اندر 'دوست نواز' کلچر کا خاتمہ ضروری ہے تاکہ باصلاحیت کھلاڑیوں کو آگے آنے کا موقع مل سکے اور میرٹ کی بالادستی قائم رہے۔

سلیکشن کمیٹی کا کردار انتہائی اہم ہے، جس پر کھلاڑیوں کا اعتماد ہونا چاہیے۔ ماضی کے تجربات سے سیکھتے ہوئے ایسی کمیٹی تشکیل دی جائے جو کسی بھی قسم کے دباؤ سے آزاد ہو کر صرف کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا انتخاب کرے۔

فرسودہ سوچ سے نجات حاصل کرنا کامیابی کی کنجی ہے۔ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے 2015ء کے بعد اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لا کر عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا۔ پاکستان کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔

کھلاڑیوں کی فٹنس کا معیار بین الاقوامی سطح کے مطابق ہونا چاہیے۔ جدید کرکٹ میں فٹنس کا کردار کلیدی ہے، جس کے لیے کھلاڑیوں کو سخت ڈائٹ پلان اور ٹریننگ کے اصولوں پر عمل کرنا ہوگا، جیسا کہ ماضی میں عمران خان کے دور میں کیا جاتا تھا۔

ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام میں بار بار تبدیلیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ایک مستقل 5 سے 10 سالہ ڈومیسٹک ماڈل تشکیل دیا جائے تاکہ کھلاڑیوں کو تسلسل کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملے اور وہ بین الاقوامی کرکٹ کے لیے بہتر طور پر تیار ہو سکیں۔

ملک میں پچز کا معیار بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ ہر علاقے کی مٹی کے مطابق پچز تیار کی جائیں تاکہ بلے بازوں اور باؤلرز دونوں کی صلاحیتیں نکھر سکیں۔ جدید سپورٹس سائنس، بائیو مکینکس اور ڈیٹا اینالیٹکس کا استعمال اب وقت کی اہم ضرورت ہے۔

بورڈ کے انتظامی اخراجات کو کم کر کے ان وسائل کو انفرااسٹرکچر کی بہتری پر خرچ کیا جانا چاہیے۔ اسٹیڈیمز میں شائقین کے لیے سہولیات کی فراہمی، سیٹنگ کے بہتر انتظامات اور سیکیورٹی عملے کی تربیت سے کرکٹ کا ماحول مزید بہتر ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر موجود بعض زہریلے اور خوشامدی مداحوں کے گروہ بھی کھلاڑیوں پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔ کھلاڑیوں کو ان گروہوں کے اثر سے بچانا اور ادارہ جاتی سطح پر حقائق پر مبنی بیانیہ قائم کرنا ضروری ہے تاکہ ٹیم کا مورال بلند رہے۔

کوچنگ اور انتظامی عہدوں پر محض نامور کھلاڑیوں کو نوازنے کے بجائے پیشہ ورانہ ڈگریاں اور جدید کوچنگ کی صلاحیت رکھنے والے افراد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ میرٹ پر مبنی تقرریاں ہی ٹیم کو کامیابی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہیں۔

آخر میں، یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ حقیقی تبدیلی کا آغاز اپنی کوتاہیوں کو ماننے سے ہوتا ہے۔ اگر بورڈ اور کھلاڑی مل کر ان تجاویز پر عمل کریں تو پاکستانی کرکٹ دوبارہ عالمی سطح پر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکتی ہے۔

کھیل کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں