وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد باضابطہ صدارتی اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔
صدارتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق صوبائی حکومت دہشت گردی کے تدارک اور امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث صوبے میں آئینی نظام کا تعطل پیدا ہو گیا تھا۔
گورنر راج کے نفاذ کے ساتھ ہی خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے اختیارات معطل کر دیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل اپنے عہدوں سے فارغ ہو چکے ہیں، جبکہ گورنر خیبر پختونخوا اب صوبے کے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر تمام انتظامی امور سنبھالیں گے۔
صوبے میں انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ وفاقی حکومت نے ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو نیا چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا تعینات کر دیا ہے، جبکہ سابق چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔
انتظامی ردوبدل کے تحت متعدد اعلیٰ افسران کے تبادلے بھی کیے گئے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے گریڈ 21، 20 اور 19 کے کئی افسران کو صوبے سے تبدیل کر کے رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ اس کے علاوہ چار نئے پولیس افسران کو بھی خیبر پختونخوا میں تعینات کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سابقہ فاٹا کے اضلاع سمیت ٹانک، ڈی آئی خان، لکی مروت اور بنوں کے لیے ایک الگ سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا۔ اس سیکریٹریٹ میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور ایڈیشنل آئی جی پولیس تعینات ہوں گے تاکہ ان علاقوں میں سیکیورٹی اور انتظامی امور کو بہتر بنایا جا سکے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صدارتی اعلامیے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے عوام امن و ترقی چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور عوام اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے۔
دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
وفاقی کابینہ نے یہ فیصلہ ایک خصوصی اجلاس میں کیا جس میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی۔ کابینہ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دانستہ طور پر لاتعلقی کا مظاہرہ کر رہی تھی۔
گورنر راج کے نفاذ سے قبل وفاقی حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے بھی رابطے کیے تاکہ سیاسی سطح پر معاملات کو حل کرنے کی آخری کوشش کی جا سکے۔
صوبائی اسمبلی کے اختیارات اب پارلیمان یا اس کے اختیار کے تحت استعمال کیے جائیں گے۔ گورنر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی جانب سے تفویض کردہ امور کو آئین کے مطابق انجام دیں تاکہ صوبے میں امن و امان کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔
خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کے حوالے سے ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، خاص طور پر اہم سرکاری تنصیبات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کی حفاظت کے لیے اضافی نفری تعینات کی جا رہی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اس اقدام کو صوبے میں آئینی حکمرانی اور امن کی بحالی کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔





اپنی رائے دیں