مواد پر جائیں
منگل، 13 اکتوبر 2026 صبح 9:13 2 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 5:57
بریکنگ
حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل، نئی قیمتوں کا اطلاق فوری ہوگاروسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف 4 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئےراولپنڈی: 12 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاکخیبرپختونخوا: تعلیمی ادارے اور بی آر ٹی سروس بحال، حالات معمول پرخیبرپختونخوا میں بے امنی کا پروپیگنڈا، وزارت اطلاعات نے حقائق واضح کر دیےخیبرپختونخوا میں بدامنی کا تاثر: سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد پھیلانے کا انکشافافغان سرزمین کا استعمال روکنا طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے: وزارت اطلاعاتصدر مملکت آصف علی زرداری نے سینٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیاکوئٹہ: میر ہوٹل کے قریب پولیس موبائل پر حملہ، ایک اہلکار شہید، 4 زخمیحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگالاہور: ون ویلنگ اور ہلڑبازی کرنے والے 7 افراد گرفتار، مقدمات درجاسرائیل نے انڈونیشی عملے کی موجودگی پر ایتھوپین کارگو طیارے کو واپس بھیج دیاسندھ پبلک سروس کمیشن: سی سی ای 2023 میں مبینہ بے ضابطگیوں پر نیب متحرکترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر کام تیزاسلام آباد: بیرون ملک تعلیم کا جھانسہ، گولڈ میڈلسٹ طالبہ سے 93 لاکھ روپے کا فراڈملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور ژالہ باری کی پیش گوئیوفاقی حکومت کی جانب سے اہم سرکاری افسران کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاریسعودی عرب ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، سلمان الدوسریترکیہ سعودی عرب پر غیر انسانی حملوں کے خلاف اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے: طیب اردگانوفاقی آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں کیلئے واجب التعمیل ہیں، جسٹس سید حسن اظہر رضوی
صبح 9:1313 اکتوبر
پاکستان

لاہور ہائیکورٹ: ڈاکٹر عظمیٰ خان کو جیل میں دل کی ادویات دینے کی ہدایت

عدالت نے ڈپٹی کمشنر اور سی سی پی او لاہور کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

لاہور ہائیکورٹ: ڈاکٹر عظمیٰ خان کو جیل میں دل کی ادویات دینے کی ہدایت

لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف دائر اہم درخواست پر سماعت کی گئی۔ اس دوران عدالت عالیہ نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کو دل کی ادویات بلا تعطل فراہم کی جائیں۔

جسٹس عبہر گل نے اس کیس کی باقاعدہ سماعت کی جس میں درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈوکیٹ رانا مدثر عمر عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نظر بند خواتین کسی بھی قسم کی غیرمعمولی مراعات کی طالب نہیں ہیں۔

وکیل نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ زیر حراست خواتین کی جانب سے جیل میں کسی خاص سہولت کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا بلکہ وہ صرف بنیادی انسانی اور قانونی ضروریات کی فراہمی کی خواستگار ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ نورین نیازی کو روزمرہ استعمال کے لیے کپڑے، ضروری ادویات اور نظر کی عینک فوری طور پر مہیا کرنے کے احکام جاری کیے جائیں۔ اس کے علاوہ ان کی اہل خانہ اور قانونی مشیر سے ملاقات کی اجازت دینے کا بھی پرزور مطالبہ کیا گیا۔

عدالتی کارروائی کے دوران ڈاکٹر عظمیٰ خان کے شوہر احد خان روسٹرم پر آئے اور جج صاحب کو بتایا کہ ان کی اہلیہ پہلے ہی دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کو ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر تین اہم ادویات دینا لازمی ہے۔

احد خان نے عدالت سے پرزور استدعا کی کہ ان کی اہلیہ کی ادویات وقت پر روزانہ جیل کے اندر پہنچانے کی باضابطہ اجازت دی جائے تاکہ ان کی صحت کو مزید لاحق خطرات سے بچایا جا سکے۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ قیدیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی ان کا بنیادی حق ہے۔

دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل نے یہ استدعا بھی کی کہ ڈپٹی کمشنر لاہور، سی سی پی او لاہور اور متعلقہ ایس پی کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کیا جائے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ان افسران کو طلب کیا جانا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ زیر بحث نظر بندی کے نوٹیفکیشن سے متعلق عدالت میں آ کر وضاحت پیش کر سکیں۔

عدالت نے تمام فریقین کے دلائل غور سے سننے کے بعد ڈاکٹر عظمیٰ خان کو دل کی ادویات فوری اور باقاعدگی سے فراہم کرنے کے احکام جاری کر دیے۔ تاہم، ڈپٹی کمشنر اور سی سی پی او سمیت دیگر افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کی درخواست پر عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر حراست افراد اور سیاسی شخصیات کی بنیادی سہولیات اور طبی امداد کے حوالے سے درخواستیں دائر کی جاتی رہی ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالتیں عام طور پر قیدیوں کی صحت اور علاج معالجے کے معاملات پر خاص توجہ دیتی ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے اس حکم کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ متعلقہ جیل انتظامیہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کی صحت کے حوالے سے عدالتی احکام پر فوری عملدرآمد کرے گی۔ عدالت کی طرف سے محفوظ کیے گئے فیصلے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ متعلقہ اعلیٰ افسران کو عدالت میں ذاتی حیثیت میں طلب کیا جاتا ہے یا نہیں۔

پاکستان کے عدالتی نظام میں بنیادی انسانی حقوق اور قیدیوں کے علاج معالجے کے حوالے سے دائر ہونے والی رٹ پٹیشنز پر باقاعدگی سے سماعت کی جاتی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے اس اقدام کو قانونی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے زیر حراست افراد کی طبی ضروریات کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی اس درخواست میں مزید قانونی کارروائی کا انحصار اس فیصلے پر ہوگا جو عدالت نے افسران کی طلبی کے حوالے سے محفوظ کیا ہے۔ اس فیصلے کے آنے کے بعد کیس کی اگلی سمت کا تعین کیا جائے گا اور فریقین کے دلائل کی روشنی میں مزید احکام صادر کیے جائیں گے۔

عدالت کی جانب سے اس نوعیت کے احکام کا مقصد قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ حراست میں موجود تمام افراد کو ان کے بنیادی حقوق بلا امتیاز حاصل ہوں۔ جیل حکام کی جانب سے اس حکم پر عملدرآمد کی رپورٹ بھی آئندہ کی کارروائی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں